ہارون الرشید نے قوم کی ترجمانی کر ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان خوش دلی سے خیرات کرنے والوں کا وطن ہے۔ باقی دنیا سے اوسطاً دو گنا۔سماجی تحفظ کا ایک متوازی نظام یہاں برپا ہے۔ ایک کروڑ سے زیادہ خاندان خوراک، تعلیم اور علاج کی سہولیات سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔

درجنوں اجلی تنظیمیں ایثار کیش مردانِ کار نے قائم کی ہیں، ’’اخوت‘‘ اور ایدھی فاؤنڈیشن ایسی۔ چند برس میں اخوت نے ڈیڑھ سو ارب کے غیر سودی قرضے جاری کیے۔ دنیااس پہ انگشت بدنداں ہے۔ بیس سے چونتیس فیصد سود پر خواتین کو قرض دینے والے بنگلہ دیش کے ڈاکٹر یونس کو نوبل انعام کا مستحق سمجھا گیا اور ملالہ کو بھی۔ڈاکٹر امجد ثاقب کو کبھی نہیں۔ملالہ ستم کا شکار ہوئی مگر کارنامہ اس کا کیا تھا؟ فروغِ تعلیم کے لیے رقوم تو اسے مغرب نے مہیا کیں۔ پاکستانی عوام کی ہیرو وہ کیسے ہو سکتی ہے۔ سروے کرالیجیے۔ نوے فیصد سے زیادہ پاکستانی اسے قبول نہیں کریں گے۔ معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مغرب کو مواقع ہمارے مذہبی جنونی مہیا کرتے ہیں۔ خود عمران خاں یہ ارشاد فرمایا کرتے کہ ساٹھ ہزار بے گناہ پاکستانیوں کو زندگی سے محروم کرنے والے تالبان کو پشاور میں دفتر کھولنے کی اجازت دی جائے۔ کشمیر کسی کا دردِ سر نہیں۔ سرحد پار آئے دن جانی نقصان ہوتا ہے ۔ بچوں اور عورتو ں پر ظلم کیا جاتا ہے۔ کسی کے دل پہ چوٹ نہیں لگتی۔ کسی سیاستدان کے دل میں درد نہیں جاگتا۔ انتخابی مہم کا محور الزام تراشی اور مغلطات ہے۔ ذات برادری،رشوت ستانی اور انسانوں کی خرید و فروخت۔پارٹی کے ٹکٹ کروڑ پتیوں کو ملتے یا ان جی داروں کوجو قبائلی تعصب کی آگ بھڑکا سکیں۔ نمک کی کان میں سب نمک ہو گئے۔ اہلِ خیر بہت مگر کنفیوژن کے شکار اور بے سمت۔ نعرے بہت دلکش اور باطن تاریک تر۔ شرفا جب دبک جائیں تو بازاری ہی بروئے کار آئیں گے، خواہ ان کے ہاتھ میں حبِ وطن کا پرچم ہو یا قال اللہ اور قال الرسول کا۔ افراد کی طرح اقوام کو بھی ایک مقصود درکار ہوتاہے اور ایک منزل۔ اگر یہ نہیں تو بنی اسرائیل کی طرح فقط صحرا نوردی۔

One response to “ہارون الرشید نے قوم کی ترجمانی کر ڈالی”

  1. Yaqootkhan shinwari says:

    ممتاز کالم نویس ہارون رشید نے عید قربان سے پہلے ملالہ یوسفزئی سے ملنے کے خواہش ظاہر کردی۔ لیکن یہ تاحال واضح نہیں ہے کہ ملالہ یوسفزئی ہارون رشید سے ملےگا بھی کہ نہیں۔
    ہاں اگر ملالہ یوسفزئی کا تعلق پنجاب سے ہوتا پھر تو قوم کی بیٹی شمار کی جاتی تھی۔ ملالہ جس قوم سے تعلق رکھ تھی ہیں وہ قوم تاحال کچھ لوگوں کے نظروں میں مشکوک ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *