ہارون الرشید کا حیران کن سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) مولانا فضل الرحمٰن اور میاں محمد نواز شریف کے پلّے کیا ہے کہ بیک وقت اسٹیبلشمنٹ اور کپتان کو للکاریں؟یہی بنیادی تضاد ہے،باقی تفصیلات۔ لاہور اسلام آباد موٹر وے پر کوہستانِ نمک سے نیچے اتریں تو ایک بورڈ نمایاں نظر آتاہے “slippery when wet”۔ سڑک بھیگی ہو تو پھسلواں ہوجاتی ہے۔

نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ پی ڈی ایم کی گاڑی پھسل گئی ہے۔بعض کا خیال تو یہ ہے کہ صرف تجہیز و تکفین باقی ہے۔ ناچیز کی رائے قدرے مختلف ہے۔ اب بھی ہوش مندی سے کام لیا جائے تو کامل تباہی سے بچا جا سکتاہے۔ پی ڈی ایم کی تباہی کا آغاز نواز شریف نے کیا۔ گوجرانوالہ کے جلسہ ء عام میں اپنے خطاب سے۔ صاحبزادی اور مولانا فضل الرحمٰن دل و جان سے اس عمل میں ان کے ساتھ شریک تھے۔ محترمہ مریم نواز کو وزیرِ اعظم کی کرسی دکھائی دے رہی تھی۔ مولاناکے قلب و دماغ میں انتقام کی آگ۔ سب حیلے حربے جانتے ہیں لیکن بدلے کی تمنا غالب آجائے تو تجزیے کی صلاحیت کند ہو جاتی ہے۔ آپ کی آرزو تو یہ تھی کہ ارکانِ اسمبلی حلف ہی نہ اٹھائیں۔ مگر یہ کیسے ممکن تھا۔مہینوں گرد پھانکی تھی، کروڑوں خرچ کیے تھے۔ راولپنڈی کے ساتھ شہباز شریف رابطے میں تھے۔ ان کے بقول کابینہ پر بھی ان سے مشورہ کیا گیا۔ خیال ان کا یہ تھا کہ الیکشن جیت لیا جائے گا۔ ہار گئے تو عمران خان کو اکھاڑ پھینکنے کا سپنا دیکھنے لگے۔ اس کا جواز بھی تھا۔ فقط راولپنڈی سے رابطہ نہیں بلکہ سامنے کی یہ سچائی بھی کہ پنجاب میں نون کی نشستیں پی ٹی آئی سے زیادہ تھیں۔وسطی پنجاب میں آج بھی شریف خاندان کپتان سے زیادہ مقبول ہے۔ عمران خان کا پلڑا تو اس لیے بھاری ہوا کہ کراچی، بلوچستان اور جنوبی پنجاب ان کی گود میں آگرے۔ ایم کیو ایم کی عمر پوری ہو چکی تھی۔کراچی اس سے بے زار تھا۔ تشدد اور خوں ریزی کی ایک ربع صدی کے بعد روشنیوں کا شہر تبدیلی کے لیے بے تاب تھا۔ بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں اہتمام و انصرام کیا گیا اور سب جانتے ہیں کہ کس طرح۔ عمران خان کا مسئلہ یہ نہیں کہ قبولیت کم ہے۔ ذاتی طور پر وہ نواز شریف سے زیادہ مقبول ہیں مگر سیاست کا فہم نہیں رکھتے، ذہنی ریاضت نہیں کرتے، مردم شناس اور معاملہ فہم نہیں۔ خوشامدیوں میں گھرے رہتے ہیں۔ بہت سا وقت دل کا بوجھ ہلکا کرنے (catharsis)میں بیت جاتا ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *