ہارون الرشید کے انکشافات ،

لاہور (ویب ڈیسک) ریاستِ مدینہ کی وزیرِ اعظم محترم بات کرتے ہیں، کیا انہیں ادراک ہے کہ ریاستِ مدینہ تھی کیا؟ اس کے مکینوں کا کردار اوراندازِ فکر کیا تھا؟ رات ڈھلنے لگی تو حضرت مولانا اویس نورانی کو تردید کا خیال آیا۔ان کے مطابق یہ بات کہ بلوچستان کو ایک آزاد ریاست ہونا چاہئیے،

نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے طنزیہ اور سوالیہ انداز میں کہی تھی۔ وہ پاکستان کی سا لمیت کے پرجوش حامی ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ مزید یہ فرمایا کہ کوئی طاقت بلوچستان کو پاکستان سے الگ نہیں کر سکتی۔شب حضرت کے ارشاد پر گمان ہوا کہ ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔ شاہ احمد نورانی کا فرزند کیونکر ایسی جسارت کا مرتکب ہو سکتا تھا۔ اخبار نویسوں کو مغالطہ ہوا ہوگا۔ سویر اخبارات چھان مارے۔سبھی میں ان سے منسوب تھا: بلوچستان کو ایک الگ ریاست ہونا چاہئے۔ ایسی ہی ایک حرکت مدتوں پہلے مولانا فضل الرحمن نے فرمائی تھی، جب بھارت میں اخبار نویسوں سے انہوں نے کہا تھا: پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے سیاستدان کنفیڈ ریشن بنا سکتے ہیں۔ مولانا نے تردید جاری فرمائی۔ قاضی حسین احمد نے بھی چھپانے کی کوشش کی۔ یہ سوال مگرفضا میں معلق رہا کہ تمام کے تمام بھارتی اخبارات اور نیوز ایجنسیاں غلط بیانی کیسے کر سکتی ہیں۔ ایک ایسے شخص کے خلاف ڈس انفرمیشن وہ کیسے پھیلا سکتی ہیں، جسے بھارت کا مخالف نہیں سمجھا جاتا۔ مولانا فضل الرحمٰن ایک زیرک آدمی ہیں۔ سوچے سمجھے بغیر کوئی بات کرتے نہیں۔ غلط فہمی کا امکان ہی پیدا نہیں ہونے دیتے۔ الفاظ کے چناؤ میں ایسا محتاط سیاستدان دنیا بھر میں کم ہو گا۔ ان کی ذہانت میں کوئی کلام نہیں کہ جامعہ اشرفیہ جیسے ادارے کو وہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرگزرے۔تحریکِ پاکستان کے پرجوش حامی، ولولہ انگیز مولانا حسن جس کے بانی تھے۔ بھارت کے اس دورے میں اجیت دوول سے بھی مولانا کی ملاقات ہوئی تھی، اعلانیہ جو پاکستان توڑنے کی بات کرتا ہے۔ اس ناچیز سمیت چند اخبار نویسوں نے احتجاج کیا تو جماعتِ اسلامی کے اکّل کھرے لیڈر منور حسن نے اپنے حلیف کے موقف سے بے زاری اور عدمِ تعلق کا اعلان کر دیا۔ اللہ اللہ کر کے اب ہوشمندی غالب آئی ہے کہ نا تراشیدہ اپوزیشن کا دم چھلّا بننے سے انکار کردیا۔ وہ اپوزیشن،قومی سلامتی کے تقاضوں سے جو بے نیاز ہے۔ غداری کی بات نہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.