ہالینڈ میں آج جس عمارت میں پاکستان کا سفارتخانہ قائم ہے وہ بیگم رعنا لیاقت علیخان نے کس سے شرط میں جیتی تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔رعنا لیاقت علی خان جب ہالینڈ میں سفیر تھیں تو ان کے بارے میں ایک واقعہ مشہور ہوا۔ہالینڈ کی ملکہ جولیانا ان کی دوست بن گئیں‘ یہ دونوں خواتین اس وقت پورے یورپ میں مشہور تھیں‘ بیگم رعنا لیاقت

تاش کے کھیل بریج کی بہت بڑی ایکسپرٹ تھیں‘ یہ روزانہ ملکہ کے ساتھ بریج کھیلتی تھیں‘ ایک دن ملکہ جولیانانے بیگم رعنا کے ساتھ شرط لگائی اگر تم آج کی بازی جیت گئی تو میں تمہیں اپنا ایک محل گفٹ کر دوں گی‘ بازی شروع ہوئی اور بیگم رعنا لیاقت علی جیت گئیں‘ ملکہ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنا ایک محل رعنا لیاقت علی خان کو دے دیا اور بیگم صاحبہ نے یہ محل حکومت پاکستان کے لیے وقف کر دیا۔آج بھی ہالینڈ میں پاکستان کا سفارت خانہ اسی محل میں قائم ہے‘ یہ 1990میں کراچی میں فوت ہوئیں اور انھیں مزار قائد پر خان لیاقت علی خان کے پہلو میں دفن کر دیا گیا لیکن یہ ہوں یا خان لیاقت علی خان وہ اپنی اولاد کے لیے کوئی زمین یا جائیداد چھوڑ کر نہیں گئے اور آج ان کے صاحب زادے اکبر علی خان اپنی بیگم دُر لیاقت کے گھرمیں رہتے ہیں اوران کی حالت یہ ہے ان کی بیگم اپنے بیمار خاوند کے علاج کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھنے پر مجبور ہیں‘ ملک کے پہلے وزیراعظم کے صاحب زادے اور بہو ہر ماہ ایک لاکھ 75 ہزار روپے افورڈ نہیں کر سکتے‘ یہ خان لیاقت علی خان کے ملک میں اپنے ڈائیلیسز کا خرچ پورا نہیں کر سکتے۔یہ ملک ان لوگوں کا تھا‘ یہ وہ لوگ تھے جو میلوں پر پھیلی جاگیریں چھوڑ کر اس ملک میں آئے اور پھر پھٹی ہوئی بنیان کے ساتھ دفن ہوئے‘ یہ ملک راجہ صاحب محمود آباد جیسے

لوگوں کا ملک تھا‘ وہ محمود آباد کی ریاست کے راجہ تھے‘ پوری زندگی اپنی رقم سے مسلم لیگ چلائی‘ پاکستان بنا تو کراچی آ گئے اور حکومت سے کوئی گھر‘ کارخانہ اور زمین نہیں لی‘ ملک میں جب سیاسی افراتفری پھیلی‘ مارشل لاء لگا تو یہ مایوس ہو گئے اور چپ چاپ اٹھے‘ بیگ اٹھایا اور لندن جا بسے۔راجہ صاحب محمود آباد کا 1973میں لندن میں انتقال ہوا‘ وہ انتقال سے قبل ہر ملنے والے سے کہتے تھے ’’میں پوری زندگی جن انگریزوں سے لڑتا رہا‘ مجھے آخر میں انھی انگریزوں کے گھر میں پناہ لینا پڑ گئی اور میں آج ان کی مہربانی سے اپنا آخری وقت عزت کے ساتھ گزار رہا ہوں‘‘ یہ سردار عبدالرب نشتر‘ مولوی فضل حق‘ حسین سہروردی اور خواجہ ناظم الدین کا ملک تھا ‘یہ لوگ ملک بننے سے قبل کروڑ بلکہ ارب پتی تھے لیکن وہ اس ملک میں آئے۔عسرت میں زندگی گزاری اور پھر ان کی اولادیں اکبر علی خان کی طرح علاج اور چھت کو ترستی ہوئی دنیا سے رخصت ہو گئیں جب کہ ان کے اردگرد1700ایکڑ کا رائے ونڈ بھی بن گیا‘ کراچی کا بلاول ہائوس 64 عمارتیں ہضم کرنے کے باوجود بھی نامکمل رہا‘ لندن کے ایک فلیٹ کی برکت سے تین سو کنال کا بنی گالہ بھی بن گیا اور راولپنڈی کی رنگ روڈ میں چند کلومیٹر کا اضافہ کر کے زلفی بخاری کے نام پر اربوں روپے سمیٹ لیے گئے اور غلام سرور خان کے نام پر نواسٹی کے مالکان نے مارکیٹ میں بیس تیس ہزار فائلیں بھی بیچ دیں۔

Comments are closed.