ہرمسلمان حکمران کو روضہ رسولؐ میں داخلے کی اجازت کیسے مل جاتی ہے جبکہ ان کی اکثریت بدکردار ہوتی ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور پاکستانی سائنسدان اور معروف کالم نگار ڈاکٹر عبدالقدیرخان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک مرتبہ شاہ عبدﷲ نے (جب وہ ولی عہد تھے) مجھے ریاض آنے کی دعوت دی تھی میں اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ گیا تھا۔ لنچ پر میں ان کے ساتھ بیٹھا تھا۔ شاہ عبدﷲ نے مجھ سے ایک حکمراں

کے بارے میں پوچھا، میں نے کہا کہ میرا ان سے تعلق نہیں رہا ہے اور میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ بعد میں ، میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ لاتعداد اسلامی ممالک کے سربراہوں کو روضہ مبارک اور خانہ کعبہ میں اندر جانے کی سہولت دیتے ہیں خدا کے لئے یہ نا کیجئے۔ آپ کو علم ہے کہ بعض حکمران بدکردار ہوتے ہیں۔ رسول کریم ؐ کی روح مبارک کو بہت تکلیف ہوتی ہوگی۔ انھوں نے سنجیدگی سے میری جانب دیکھا اور کہا واقعی آپ سچ کہہ رہے ہیں مگر ہماری مجبوری یہ ہے کہ یہ لوگ دوست ممالک کے سربراہ ہوتے ہیں اور یہ خود درخواست کرتے ہیں اور ہمارےلئے یہ مشکل ہوجاتا ہے کہ ہم انکار کردیں۔ میں نے کہا آپ ایک آرڈر جاری کر دیں کہ کسی بھی شخص کو روضۂ مبارک اور خانہ کعبہ کے اندر جانے کی اجازت نہیں ہوگی سوائے مشہور علمائے دین کے۔ یہ قانون ہمیشہ کے لئے بدکرداروں کا راستہ بند کر دے گا۔ وہ چپ ہوگئے اور مجھے یہ احساس ہوگیا کہ جومیں کہہ رہا ہوں ممکن نہیں ہوگا ۔(نوٹ) شیخ سعدیؒ نے ایک حکایت میں بیان فرمایا ہے کہ خاموشی بہت سی بھلائیوں کی جڑ ہے اور دانائوں کا قول ہے کہ کم سونا، کم کھانا اور کم بولنا بہت سی برائیوں کو روکتا ہے جو انسان کم گو ہوتا ہے اس کی زبان غیبت، چغل خوری، بہتان بازی اور دیگر گمراہ کرنے والی باتوں سے محفوظ رہتی ہے۔ ہے کوئی حکمراں یا سیاست داں جو اس پر عمل کرے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *