ہر میچ اور ہر فتح میں پاکستانی ٹیم کا مختلف مین آف دی میچ:

شارجہ (ویب ڈیسک) پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سپر 12 مرحلے کے اپنے تمام پانچوں میچز میں کامیابی حاصل کی ہے۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر میچ میں پاکستان کی طرف سے مختلف کھلاڑی کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا ہے جو ٹیم ورک کا بہترین نمونہ ہے۔

پاکستان نے روایتی حریف بھارت کے خلاف میچ سے اپنے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سفر کا آغاز کیا۔ اس میچ میں تین اہم ترین وکٹیں لے کر بھارتی بیٹنگ لائن کے بخیے ادھیڑنے والے شاہین شاہ آفریدی کو مین آف دی میچ کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔گرین شرٹس نے دوسرا میچ نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا اور ان کا تحفظ کا مسئلہ حل کیا۔ اس میچ میں حارث رؤف نے چار کیویز کا شکار کیا اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔نمیبیا کے خلاف میچ میں ناقابلِ شکست 79 رنز بنانے والے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان مین آف دی میچ بنے۔ افغانستان کے خلاف ہارا ہوا میچ جتوانے اور سات گیندوں پر 25 رنز بنا کر گرین شرٹس کو ناقابلِ شکست بنانے والے آصف علی کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ سپر 12 مرحلے کے آخری میچ میں پاکستان کی طرف سے انٹرنیشنل ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں تیز ترین نصف سنچری سکور کرنے والے شعیب ملک کو مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔ انہوں نے 18 گیندوں پر 54 رنز بنائے اور ناٹ آؤٹ رہے۔معروف سپورٹس جرنلسٹ جازب صدیقی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اب تک پانچ میچز کھیلے ہیں اور ہر میچ میں مختلف کھلاڑی کو مین آف دی میچ کے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے جو ایک نیک شگون ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستانی ٹیم کسی ایک کھلاڑی کے سر پر نہیں چل رہی بلکہ پوری ٹیم ہی اپنا حصہ ڈال رہی ہے اور ٹیم ورک کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر میچ میں مختلف مین آف دی میچ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ جب بھی گرین شرٹس کو جس بھی کھلاڑی کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ صورتحال کے حساب سے بہترین پرفارمنس دیتا ہے جو پاکستان ٹیم کو ناقابلِ شکست بناتا ہے۔ سیمی فائنل میں بھی اگر ٹیم ورک جاری رہا تو شاہینوں کو فائنل میں جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔