ہزارہ والو: کس سے امید لگا بیٹھے تم ،

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ایک طرف بلوچستان کے علاقے ”مچ“ میں سوگوار خاندان گیارہ میتیں رکھ کر اِس انتظار میں بیٹھے تھے حکمران وقت آکر اُن کے زخموں پر مرہم رکھے، اُنہیں یقین دلائے یہ ”کڑاوقت“ اُن پر آخری بار آیا ہے،

یہ قیامت اُن پر آخری بارٹوٹی ہے، آئندہ ہرگز ہرگز ایسا نہیں ہوگا، اگر ایسا ہوا سب سے پہلے وہ استعفیٰ دیں گے …. بعد میں وہ چاہے حسب معمول اپنی اس بات سے بھی مُکر جاتے پر وقتی طورپر سوگوار خاندانوں کو کچھ تسلی تو ہوتی، پر افسوس دوسری طرف وزیراعظم اپنی روایتی انا کو سامنے رکھ کر بیٹھے رہے، یوں محسوس ہورہاتھا اب کے بار اُن کی لڑائی میتوں سے ہے، پاکستان کی بائیس کروڑ ”زندہ میتوں “ سے وہ پہلے ہی لڑرہے ہیں،…. میتوں کو دفنانے سے پہلے نہ جانے کی ضِد وہ ایسے کئے بیٹھے تھے جیسے میتیں اُن کے سامنے اُٹھ کر یہ مطالبے ہی پیش نہ کرنا شروع کردیں کہ اُنہیں بھی وزیر اور مشیر وغیرہ بنایا جائے، ممکن ہے وہ یہ سوچ رہے ہوں کوئی میت وزیراعظم بننے کا مطالبہ ہی نہ کردے، سو وہ اپنی ضِد پر اڑے رہے اور اُس وقت گئے جب میتیں دفنا دی گئیں، وہ اپنی طرف سے اِسے اپنی بہت بڑی کامیابی سمجھ رہے ہوں گے، اُن کے کسی وزیر مشیر میں یہ جرا¿ت نہیں وہ اُنہیں یہ بتائے کمزوروں سے مقابلہ کرکے حاصل کی جانے والی فتح کو فتح نہیں کہتے، اصل فتح سوگوار خاندانوں اور ”ہزارویوں“ کو ہوئی ہے جنہوں نے وزیراعظم کی ضِد یا انا کے سامنے ہتھیار ڈال کر ملک کو ایک بڑی آزمائش سے بچا لیا، وزیراعظم کو احساس ہویانہ ہو پر یہ حقیقت ہے اُن کی حکومت کو بھی بچا لیا، ورنہ بطور احتجاج جس قسم کے فسادات آہستہ آہستہ پورے ملک میں پُھوٹتے جارہے تھے

پہلے سے مختلف خطرات سے دوچار ملک مزید خطرے میں محسوس ہونے لگا تھا، ہم یہ چاہتے تھے ہمارے محترم وزیراعظم ضِد چھوڑ کرسوگوار خاندانوں کے پاس جاکر ہمیں یہ موقع فراہم کریں ہم شاندار الفاظ میں اُنہیں خراج تحسین پیش کریں، یہ موقع ہمیں سوگوار خاندانوں اور ہزارہ برادری نے فراہم کردیا، ہم اُن کے شکرگزار ہیں اُنہوں نے محترم وزیراعظم کی ضِد پوری کرکے ملک کو ایک بڑے امتحان سے بچا لیا۔ اُن کے اِس عمل سے پورے پاکستان کی ہمدردیاں اُن کے ساتھ مزید بڑھی ہیں جبکہ حکمرانوں کے ساتھ کم ہوتی ہوئی ہمدردیاں مزید کم ہوئی ہیں، البتہ وزیراعظم کو ایک حوالے سے ضرور خراج تحسین پیش کیا جاسکتا ہے کہ ہزارہ برادری سے کہیں اُنہوں نے یہ مطالبہ نہیں کردیا ”وہ اپنے پیاروں کی میتیں اُٹھا کر وزیراعظم ہاﺅس لے آئیں، اُن سے تعزیت کروائیں اور میتیں واپس لے جاکر دفنا دیں“،….جیسے اُن کے کسی وزیر یا مشیر کا کوئی قریبی عزیز فوت ہوجائے بجائے اِس کے وہ تعزیت کرنے خود اُس کے پاس جائیں اُسے اپنے پاس بُلا لیتے ہیں، سوگوار بے چارہ اِسے بھی بڑی غنیمت سمجھتا ہے کیونکہ وزیراعظم سے اُسے اتنی بھی اُمید نہیں ہوتی، ویسے وزیراعظم خان صاحب کا یہ حق بھی بنتا ہے وہ کسی کی تعزیت کے لیے نہ جائیں، یا کسی کے جنازے میں شریک نہ ہوں، اِس لیے کہ وہ اگر اپنے قرہبی رشتوں کے جنازوں میں شریک نہیں ہوتے، اُن کی تعزیت کے لیے نہیں جاتے ، اپنے سب سے قریبی دوست نعیم الحق کے جنازے میں شریک نہیں ہوئے تو باقیوں کا کیا حق بنتا ہے وہ اُن سے تعزیت کے لیے جائیں۔

Comments are closed.