ہم سے معافی مانگنے کا مطالبہ نہ کیا جائے ورنہ ۔۔۔۔۔

کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹریزکے رہنمائوں نے کہا ہے کہ مریم نواز کا لہجہ قابل افسوس ہے، پیپلز پارٹی کیلئے سلیکٹڈ لفظ غلط ہے، جمہوریت کیلئے قید کاٹنے کے باوجود ہمارے لئے سلیکٹڈ کا لفظ استعمال کیا گیا،ہر چیز کا جواب دے سکتے ہیں، پارٹی کو دیوار سے نہ لگائیں،

سیاسی قبلہ درست رکھیں، ان لیگ اور پی ٹی آئی ملک کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے، جو لوگ چھپ چھپ کر ملے انکا بھی معلوم ہے، کوروناویکسین 160فیصدمہنگی بیچی جارہی ہے، ویکسین کی امپورٹ دوست احباب کے ذریعے کی جارہی ہے، پیپلزپارٹی استعفوں کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی، اس حوالے سے ماضی کا تلخ تجربہ رکھتے ہیں تاہم اگر اس ایٹم کے استعمال پر بات ہوسکتی ہے ،ہمارا ہدف سلیکٹڈ سرکار ہے، ن لیگ استعفوں کی شروعات کرے، ہم ہائبرڈ اور سلیکٹ سرکار کو پارلیمان میں توڑینگے، بوزدار کی پنجاب حکومت اپنی جڑیں کھو چکی ہے۔ ان خیالات کا اظہار شیری رحمٰن، مولا بخش چانڈیو، شازیہ مری نے اتوارکو بلاول ہائوس میڈیا سیل کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سنیٹرشیری رحمن نے کہ ہم نے کبھی بھی استعفے کی بات نہیں کی، ہماری اپنی سیاست ہے ۔ پیپلز پارٹی چاہتی ہے اتحاد قائم رہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم بیانیے کی نہیں سیاست کی بات کرینگے پیپلز پارٹی استعفوں کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی ہمارا ہدف تباہی اور سلیکٹڈ سرکار ہے زرداری صاحب ای سی ایل پر ہیں تو پاکستان میں ہی ہیں ملک سے باہر تو نہیں۔انہوں نے بتایا کہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک بشمول چھوٹے چھوٹے ممالک اپنی آبادی کو مفت ویکسین فراہم کر رہے ہیں تاہم ہم اب تک کچھ بھی نہیں منگوا سکے ہیں۔شیری رحمن نے کہااس حکومت نے اداروں کو گروی رکھ کر پاکستان کی عوام کا مستقبل گروی رکھ دیا ہے، 44 کھرب ملک کا قرضہ ہوچکا ہے جو جی ڈی پی کا 98 فیصد بنتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اسٹیٹ بینک کو جو مادر پدر خود مختاری دینے کی بات ہورہی ہے۔انہوں نے کہاکہ یوسف رضا گیلانی کے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر منتخب ہونے پر مریم نواز کی پیپلز پارٹی پر تنقید کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بلاول بھٹو نے سیاسی تہذیب کے دائرے میں رہ کر تنقید کا جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم پارلیمان میں رہ کر سلیکٹڈ حکومت کا احتساب کرنے کیلئے بنی تھی، ہم پر امن سڑکوں پر احتجاج کیلئے تیار تھے۔ انہوں نے کہا کہ عثمان بزدار کی پنجاب حکومت جڑوں سے ہلی ہوئی ہے، ہمارے ساتھ مل کر اسے ہلانے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی ہے، اس پر بحث ہی نہیں ہوتی۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *