ہم نے ایک بار لاہوری بابا جی سے پوچھا : ۔۔۔۔۔۔

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دنیا میں ذہین صرف دو قسم کے ہی لوگ پائے جاتے ہیں، ایک لاہوری۔۔اور دوسرے وہ جو۔۔ پائین تسی سیدھے جا کے کھبے مڑنافیر تھوڑا جیا اگے جا کے کھمبا آئے گا

فیر اوں نوں ہو جانا فیر تسی مڑنا نئیں اگے پہلا چوک آئے گا اوتھوں ایں نوں مڑ کے فیر پہلی گلی جیہڑی ایں نوں جا ری اے مڑ جانا سیدھے بھاٹی گیٹ۔۔۔جو یہ سمجھ جاتے ہیں۔۔ہم نے ایک بار لاہور میں ایک کافی عمر کے باباجی سے پوچھا، باباجی، کوئی ایسا حل بتائیں کہ بندہ دن رات اے سی بھی خوب چلائے اور بجلی کا بِل بھی نہ آئے۔ ۔باباجی نے ہمیں غور سے دیکھا، پھر گھورا، پھر کان پہ لگی سگریٹ نکالی،اسے ایک ہاتھ سے پکڑا اور دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے پر ٹھونکنے لگے، پھر سگریٹ منہ سے لگائی، جیب سے ماچس نکالی، تین تیلیاں ضائع کرنے کے بعد چوتھی ٹرائی میں سگریٹ جلائی، لمبا کش کھینچا،پھر سارا دھواں ہمارے منہ پہ چھوڑتے ہوئے بڑے اطمینان سے فرمانے لگے۔۔ پْتر۔اے سی تھلے دو ٹا ئر لَوا لے۔ تے چلا کے جتھے مرضی لے جا۔ بل نئیں آئے گا۔۔ہم پاکستانی بھی عجیب ہی قوم ہیں،بغیر پڑھے پاس ہونا چاہتے ہیں۔ بغیر کام کیئے تنخواہ لینا چاہتے ہیں، بلکہ چاہتے ہیں کام پر نہ جائیں اور نوکری چلتی رہے، ورزش نہ کر کے بھی فٹ فاٹ رہنا چاہتے ہیں۔۔ خود جیسے ہوں بیوی حسینہ عالم مانگتے ہیں۔ان سب سے بڑھ کر، نماز نہیں پڑھیں گے اور خواہش کریں گے کہ موت سجدے میں آئے۔۔اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔گرمیاں شدید ہیں، اپنے شادی شدہ بھائیوں کے لیے باباجی کی طرف سے ایک مفید مشورہ ہے کہ جب بھی فریج سے پانی پینے کے لیے بوتل نکالیں تو اسے دوبارہ بھر کر واپس رکھیں۔نہیں تو لیکچر بوتل سے شروع ہو گا اور پھر بات بچوں سے ہوتی ہوئی،برے نصیب، داخلی و خارجی امورسمیت خاندانی مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے سچا پیار نہ ملنے جیسے طعنے پر ختم ہوگی۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Comments are closed.