ہم کٹھ پتلی حکومت اور اس کوچلانے والوں کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔۔۔۔۔

کوئٹہ ( ویب ڈیسک ) پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت چل نہیں رہی چلائی جا رہی ہے ، ہم چلنے والوں اور چلانے والوں کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ کل شام تک ان کے پاس

اکثریت نہیں تھی ، ہم جانتے ہیں کہ کن کن افراد کو سیف ہاؤس میں لے جایا گیا اور اپوزیشن کے کن کن ارکان کو ٹیلیفون پر اجلاس میں شرکت کرنے سے منع کیا گیا۔ اداروں کو خود سوچنا چاہئے کہ انہیں غیر متنازعہ رہنا ہے ، ہم بھی اداروں کو غیر متنازعہ اور غیر جانبدار دیکھنا چاہتے ہیں ، یہی ہماری خواہش ہے کہ پاکستان کی سیاست سے یہ داغ ختم ہو جائے ، سیاست میں اگر بے جا مداخلت ہوتی ہے تو شکایت کرنا ہمارا حق ہے ۔ مولانا فض الرحمان نے کہا کہ ہم قوم کو یہ بھی بتانا چاہتے ہیں کہ ناجائز حکمران اور دھاندلی کی پیداوار حکومت آئندہ الیکشن کے لئے ابھی سے جعلی پارلیمنٹ کو ایسی قانون سازی کیلئے تیار کر رہی ہے کہ وہ آئندہ بھی آسانی کیساتھ دھاندلی کر لیں ، لیکن حزب اختلاف سینہ سپر ہو کر اس کا مقابلہ کر رہی ہے ۔ اسمبلی کے اندر حزب اختلاف انہیں قانون سازی میں شسکت دے چکی ہے ، مشترکہ اجلاس میں انہیں اکثریت کی امید نہ رہی تو اسے ملتوی کر دیا۔ آج جب دوبارہ اجلا طلب کیا گیا تو افواہیں گردش کر رہی ہیں جو کہ حقیقت کے قریب تر ہیں کہ ان کی اتحادی جماعتوں کو ریاستی ادارے دباؤ میں لا کر انہیں مجبور کر رہے ہیں کہ آپ نے سپورٹ کرنی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نجانے کیوں وہ اس سارے عمل کو 19 نومبر سے قبل مکمل کرنا چاہتے ہیں ، شائد حکمرانوں کی کسی سے کمٹمنٹ ہے کہ وہ یہ عمل 19 نومبر تک مکمل کر لیں گے ۔

مہنگائی کے خلاف پی ڈی ایم کی قیادت میں بڑا عوامی مظاہرہ ہوگا ،کل بڑی ریلی نکالی جائے گی جس میں اپوزیشن عوام کا موقف اجاگر کرے گی ، قوم کا مقابلہ ناجائز اور چوری کردہ ووٹ کی بنیاد پر آنے والے حکمرانوں کے ساتھ ہے ، پی ڈی ایم اس وقت وہ سیاسی قیادت ہے جو نازک ماحول میں عوام کے شانہ بشانہ ہے اور انہیں تنہائی کا احساس نہیں ہونے دے رہی ۔ 20 نومبر میں پشاور میں مظاہرہ کیا جائے گا۔سربراہ پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم آئینی اور قانونی راستہ اختیار کریں گے ، پی ڈی ایم نے سیکرٹری جنرل شاہد خاقان عباسی کو ذمہ داری سونپی ہے کہ فوری طور پر کامران مرتضی اور عطا تارڑ کو رابطے میں لیں اور سپریم کورٹ کی سطح کا قانونی پینل بنا کر ان قوانین کا جائزہ لیں تا کہ ہم عدالت سے رجوع کر سکیں ،ہم قانون اور آئین کا راستہ لینا چاہتے ہیں ، ہم جمہوری ماحول میں عوام کو تسلی دینے کیلئے جمہوری طور پر مظاہرے کر رہےہیں ، اس حوالے سے جو نئی صورتحال ہے اس پر قوم کو اعتماد میں لینا چاہتےہیں ۔ پی ڈی ایم اس بات پر یقین رکھتی ہےکہ امن و امان ہونا چاہئے ، یہ اسی صورت ممکن ہے جب شہریوں کے انسانی حقوق کا تحفظ ہو ، صوبوں اور ان کے شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہو ، ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو ۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ تمام جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ اس وقت جو نوجوان لا پتہ ہیں اگر وہ ریاست مخالف کسی سرگرمی میں ملوث ہیں تو بھی انہیں عدالت میں لایا جائے ، یہاں جمہوری ماحول ہے ، یہ جمہوری ملک ہے اگر یہاں بھی ایسے واقعات ہوں گے تو کیا فرق رہ جائے گا جمہوریت میں اور ڈکٹیٹر شپ میں ۔