ہوائی جہاز کے ٹیک آف اور لینڈنگ کے وقت کانوں میں سیٹیاں سی کیوں بجنے لگتی ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) دوستو، چلیں ایک بار ایسی خبروں کا تذکرہ ہوجائے جو خود ہمارے لئے بھی بالکل نئی تھیں۔۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہر ایسی جس سے ہمارے علم میں اضافہ ہو ،ہم اسے دوسروں سے شیئر کریں، بس اسی مینوفیکچرنگ فالٹ کے تحت ہم ایک بار پھر کچھ مزید انوکھی خبروں کے ساتھ

آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔۔نامور کالم نگار علی عمران جونیئر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ہمیں یوںلگتا تھا کہ جب بھی ہم جہاز میں سفرکرتے ہیں تو جہازکی لینڈنگ یا ٹیک آف کے وقت ہمارے کانوں میں سیٹیاں بجنے لگتی ہیں۔ کئی بار ایسا ہوا، اس کا حل کیا ہے؟ ہمیں قطعی اس کا علم نہیں تھا۔ لیکن اب ہمیں پتہ چلا ہے کہ فضائی سفر کے دوران جب طیارہ ٹیک آف یا لینڈنگ کرتا ہے تو کیبن میں ہوا کا دباؤ تیزی سے تبدیل ہوتا ہے جس سے ایک عجیب ناگوار گزرنے والی آواز پیدا ہوتی ہے جس سے کان بج اٹھتے ہیں۔ایک ائرہوسٹس نے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں اس آواز سے کانوں کو بچانے کا آسان طریقہ بتا دیا ہے۔ پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں بتایا ہے کہ ایسے وقت میں چیونگم یا کوئی ٹافی آپ کے کانوں کو اس آواز سے بچا سکتی ہے۔ائرہوسٹس کے مطابق مسافروں کو اپنے پاس چیونگم یا کوئی ٹافی رکھنی چاہیے اور ٹیک آف اور لینڈنگ کے وقت اس چیونگم کو چبانا یا ٹافی کو چوسنا شروع کر دینا چاہیے۔ کچھ ایسی ادویات بھی ہیں جو اس صورتحال میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں۔ائرہوسٹس کا کہنا ہے کہ ،میں ہمیشہ اپنے ساتھ کسی طرح کا ’نوزا سپرے‘ یا کولڈ میڈیسن رکھتی ہوں اور ٹیک آف اور لینڈنگ کے وقت انہیں استعمال کرتی ہوں۔ اگر سفر ختم ہونے اور آپ کے گھر یا ہوٹل پہنچ جانے کے بعد بھی آپ کے کانوں کی گونج ختم نہ ہو رہی ہو تو ایسی صورت میں گرم پانی سے نہائیں

۔ پانی جتنا زیادہ گرم ہو اتنا فائدہ مند ہو گا اور اس میں آپ کو کم از کم 10منٹ تک نہانا ہو گا۔ اس طرح آپ کے کان نارمل ہو جائیں گے۔یہ معلومات لینے کے بعد اب ہم نے تہیہ کیا ہے کہ جب بھی فضائی سفر کریں گے تو ٹافی یا چیونگم ضرور ساتھ رکھیں گے۔
روزانہ کی ورزش یا سائیکل چلانے کا عمل بالخصوص بزرگوں میں الزائیمر، ڈیمنشیا اور دیگر دماغی امراض سے دور رکھتا ہے۔اس سے قبل ورزش کے دماغی اور جسمانی فوائد سامنے آتے رہے ہیں لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ تیزقدمی دماغی زوال کو بھی روک سکتی ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جسمانی طور پر متحرک رہنے کا عمل دماغ میں کسی بھی طرح کی اندرونی جلن یا انفلیمیشن کو کم کرتا ہے۔ یہ اندرونی سوزش جسم کے کسی بھی مقام پر ہو وہ غیرمعمولی امراض کی وجہ بنتی ہے جن میں کینسر، امراضِ قلب اور دیگر بیماریاں شامل ہیں۔نئی تحقیق کے تحت بزرگوں کیلیے ضروری ہے کہ وہ تیزقدموں سے چلنے اور ممکن ہو تو سائیکل چلانے کو معمول بنائیں کیونکہ اس سے اکتسابی صلاحیت بہتر ہوتی ہے اور دماغ توانا بنتا ہے۔ یہ تحقیق یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں کی گئی۔اگرچہ ڈیمنشیا اور الزائمر کو اب بھی مکمل طور پر نہیں سمجھایا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق دماغ کے امنیاتی خلیات مائیکروگلیا کہلاتے ہیں۔ یہ دماغ سے مضراثرات صاف کرتے ہیں، لیکن ان کی غیرمعمولی سرگرمی سے سوزش، اعصابی بیماری اور دماغی سگنل میں خلل ڈالتی ہے۔ ورزش اس غیرمعمولی تحریک کو لگام دیتی ہے۔سائنسدانوں نے167 بوڑھے افراد کا جائزہ لیا ہے جس میں ورزش اور مائیکروگلیئل خلیات کے درمیان تعلق نوٹ کیا گیا ہے۔ لیکن کچھ شرکا ایسے بھی تھے جن میں کسی قسم کی دماغی تنزلی نہیں تھی۔ تمام رضاکاروں کو ایک سے دس روز تک دماغی سرگرمی نوٹ کرنے والی ٹوپی بھی پہنائی گئی تھی جو 24 گھنٹے سرگرمی کو نوٹ کرتی رہی تھی۔معلوم ہوا کہ ورزش سے گلیئل خلیات کی غیرمعمولی بلکہ مضر سرگرمی میں کمی واقع ہوئی۔ پھر یہ بھی پتا چلا کہ اگر کوئی ڈینمشیا یا الزائیمر کا مریض ہے تو ورزش نے اس کے دماغ کو بہت فائدہ پہنچایا اور اعصابی انحطاط کم ہوگیا۔یہی وجہ ہے کہ اب ڈاکٹر بزرگوں کو بھی ہفتے میں 120 سے 150 منٹ تک تیز قدموں سے پیدل چلنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔ وقت بدلتا ہے پر وقت لگتا ہے۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔

Comments are closed.