یوسف رضا گیلانی بمقابلہ حفیظ شیخ ۔۔۔۔۔ جیت کس کا مقدر بنے گی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں حیران وپریشان ہوں کہ محض ووٹوں کی خریدوفروخت کے خلاف سینہ کوبی فرماتے ہمارے ذہن ساز اینکر خواتین وحضرات نے اس پہلو کی جانب توجہ ہی نہیں دی ۔وہ یہ بھی سمجھ نہیں پارہے کہ ’’قیمے والے نان‘‘کے

عوض ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کے یرغمال ہوئے ’’جہل کا نچوڑ‘‘ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے افراد کو اپنا ووٹ بیچنے سے روکنے کی ’’اخلاقی جرأت‘‘ سے محروم ہیں۔اسی باعث سپریم کورٹ کو ہمیں سیدھی راہ پر دھکیلنے کو متحرک ہوناپڑرہا ہے۔پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کی مداخلت نے بھی تاہم عالمی معیشت کے نگہبان اداروں کو مطمئن نہیں کیا۔اعلان کردیا کہ پاکستان کو500ملین ڈالر کی دوسری قسط فراہم کردی جائے گی۔مذکورہ اعلان میں یہ پیغام بھی مضمر تھا کہ اگر یہ رقم درکارہے تو حفیظ شیخ صاحب کی سینٹ میں آمد کو یقینی بنائو۔عالمی معیشت کے نگہبان ادارے خود کو دُنیا کے روبرو جمہوریت کے ’’مامے‘‘ بناکر بھی پیش کرتے ہیں۔عوام کے براہ راست ووٹوں سے منتخب ہوئی قومی اسمبلی جب شیخ صاحب کی حمایت میں ووٹ ڈالے گی تو IMFسینہ پھلاکر یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ پاکستان کی معیشت سنوارنے کے لئے اس نے جو نسخہ تیار کیا ہے اسے ہماری پارلیمان نے بھی دل وجان سے قبول کیا ہے۔اسے سامراج کا مسلط کردہ ’’نسخہ‘‘ قرار نہ دیا جائے جسے ’’غیر منتخب ٹیکنوکریٹ‘‘ کے ذریعے ’’قیمے والے نان‘‘ کھانے اور سستی بجلی کی عادی ہوئی قوم کو ’’بدہضمی‘‘سے بچانے کے لئے کڑوی دوا کی طرح استعمال کیا جارہا ہے۔یوسف رضا گیلانی بدنصیب تھے۔ان کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی آئی ایم ایف نے انہیں حفیظ شیخ صاحب کی ذہانت سے رجوع کرنے کا موقعہ فراہم کیا تھا۔بطور وزیر خزانہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے شیخ صاحب مگر جو تجاویز دیتے رہے’’عوامی ردعمل‘‘ کے خوف سے گیلانی صاحب ان پر عملدرآمد کرنے سے ہچکچاتے رہے۔سیاسی اعتبار سے ’’غیر مقبول‘‘فیصلوں کو Ownکرنے کی ہمت وجرأت وطن عزیز میں فقط عمران خان صاحب جیسے دلاور کو نصیب ہوئی ہے۔ اسی باعث ہماری ریاست کے دیگر ادارے اور عالمی معیشت کے نگہبان ان کی معاونت کو ہمہ وقت آمادہ رہتے ہیں۔’’قیمے والے نان‘‘ کے بل بوتے پر چلائی ’’جمہوریت‘‘ کے دن تمام ہوئے۔اب وہی ہوگا جو منظورIMFہوگا۔رات سونے سے قبل خدارا گھر کی تمام بتیاں بجھائیں۔ ایئرکنڈیشن جیسی ’’عیاشی‘‘ سے گریز کریں۔درختوں کے سائے تلے دن گزاریں اور رات کو کھلی چھت پر سونے کی عادت اپنائیں۔’’ارطغرل‘‘ جیسے دلاوروں کی کامیابی وکامرانی بجلی اور گیس کی محتاج نہیں تھی۔ہمیں اس کے دور میں واپس لوٹنا ہوگا۔

Comments are closed.