یوسف رضا گیلانی یا صادق سنجرانی ۔۔۔؟؟؟ تہلکہ خیز پیشگوئی کردی گئی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد احمد عارف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔توقع کے عین مطابق پی ڈی ایم نے سابق وزیر اعظم مخدوم یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینٹ کے لیے امیدوار نامزد کر دیا، تحریک انصاف اور حکومت اپوزیشن میں پھوٹ ڈال کر پی ڈی ایم اتحاد میں شامل بی این پی مینگل

اور اب تک غیر جانبدار رہنے والی جماعت اسلامی کو ساتھ نہیں ملاتی تو بظاہر یوسف رضا گیلانی کی کامیابی یقینی ہے، اپوزیشن اتحاد کو باون ارکان کی حمایت حاصل ہے جبکہ حکومتی اتحاد سینٹ میں سینتالیس ارکان پر مشتمل ہے ؎ جمہوریت اِک طرز حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے اپوزیشن کی گنتی پوری ہے اور عمران خان اخلاقی برتری کے جس اصول پر اب تک کاربند ہیں، وہ انہیں ارکان سینٹ کی وفاداریاں تبدیل کرنے سے روکتا ہے، حکومتی امیدوار صادق سنجرانی اور مخدوم یوسف رضا گیلانی کا باہم موازنہ کیا جائے تو دونوں میں نمایاں فرق نہیں، صادق سنجرانی پر مالی بدعنوانی کے وہ الزامات نہیں جن سے یوسف رضا گیلانی کا دامن داغدار ہے مگر پچھلی بار سینٹ کے چیئرمین وہ گیلانی صاحب کے لیڈر آصف علی زرداری کی تائید و حمایت سے بنے اور ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوئی تو اپوزیشن اتحاد نے ویسا ہی واویلا کیا تھا جیسا ان دنوں حکمران اتحاد کا شیوہ ہے۔ حسن اتفاق سے دونوں بار چودہ پندرہ ارکان کے ضمیر جاگے اور اقلیت کو اکثریت پر برتری حاصل ہوئی، عمران خان سینٹ کے سابقہ انتخابات سے آج تک مسلسل خفیہ ووٹنگ اور ضمیر فروش کی مخالفت کر رہا ہے اور سیاست میں اخلاقی تقاضوں کو ملحوظ رکھنے کا خواہش مند ہے جبکہ اپوزیشن قیادت بالخصوص آصف علی زرداری، میاں نواز شریف، مولانا فضل الرحمن، مریم نواز اور بلاول بھٹو ضمیروں کی خرید و فروخت کو جمہوریت کا حسن اور ذہانت کا شاہکار قرار دیتے ہیں۔

یوسف رضا گیلانی مروجہ پاکستانی سیاست کا سٹڈی کیس ہیں،قیادت سے قبائلی طرز کی وفاداری، اقربا پروری اور دوست نوازی اور کسی اصول و ضابطے کے بجائے مفاد خویش کی پاسداری، ہمارے دوست، ڈاکٹر شفیق چودھری 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں گیلانی صاحب کی طرح پہلی بار منتخب ہو کر اسمبلی پہنچے، ڈاکٹر صاحب اپنے متوسط کلاس پس منظر، تعلیم اور بیرون ملک قیام کے سبب مثالیت پسندی کے دلدادہ تھے، گیلانی صاحب نے انہیں سمجھایا کہ یہ مثالیت پسندی اور نظریاتی لگائو سیاست میں کارآمد نہیں، پہلے مال بنائیں، ہر جائز و ناجائز کی تفریق کے بغیر عہدہ و منصب کی دوڑ میں شامل ہوں اور جو بھی ملتا ہے اس پر اکتفا کریں اور پھر اپنے نظریاتی عزائم کی تکمیل کے بارے میں سوچیں، ڈاکٹر شفیق نہ مانے، گیلانی صاحب آگے بڑھ گئے،گیلانی صاحب کو وزارت عظمیٰ کا منصب ملا تو ان کے احباب کو توقع تھی کہ وہ اپنے اعلیٰ خاندانی و سیاسی پس منظر، منصبی تقاضوں اور حلف میں درج شرائط کی پاسداری کریں گے، مگر موقع ملنے پر انہوں نے منصب اور حلف کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر ریاست کے بجائے قیادت سے وفاداری نبھائی اور معاشرے میں قبائلی روایات کے علمبردار، نام نہاد جمہوریت پسندوں سے داد سمیٹی، سردار فاروق لغاری کا انجام یاد رکھا جس نے ریاست اور حلف کو ترجیح دی اور سیاست میں معتوب ٹھہرے۔ کسی حقیقی جمہوری معاشرے میں عدالت عظمیٰ سے توہین عدالت اور ریاستی مفاد پر ذاتی و سیاسی مفاد کو ترجیح دینے کے الزام میں سزایافتہ وزیر اعظم زندگی بھر منہ دکھانے کے قابل رہتا نہ سیاست میں دخل اندازی کی جرأت کرتا،

مگر پاکستان میں بدعنوانی ، بددیانتی اور کسی اخلاقی جرم میں سزاملنے پر سیاستدان وکٹری کا نشان بناتے اور مقبولیت کی انتہائوں کو چھوتے ہیں۔ بعض دوست جب گیلانی صاحب کا موازنہ سید فخر امام سے کرتے ہیں تو مجھے سیدہ عابدہ حسین کے شوہر نامدار پر ترس آتا ہے۔ یوسف رضا گیلانی کی سینٹ انتخاب میں کامیابی عمران خان اور حکمران اتحاد کے لیے سبق آموز ہے لیکن علی حیدر گیلانی کی ویڈیو ریکارڈنگ منظر عام پر آنے کے بعد یہ انتخاب اخلاقی اور قانونی جواز سے محروم ہو چکا ہے، وہ چیئرمین سینٹ بھی منتخب ہو گئے تو یہ موجودہ جمہوری پارلیمانی نظام اور طرز انتخاب کے علاوہ سیاسی قیادت و جمہوریت کی علمبردار جماعتوں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہو گا، ووٹ کی اس قدر توہین اور منتخب ارکان اسمبلی کی اتنی زیادہ تذلیل کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے والی سیاسی جماعتوں اور قیادت کو آئندہ انتخابی عمل میں مداخلت، دھونس دھاندلی اور دولت کے بل بوتے پر عوامی مینڈنیٹ میں ردوبدل اور ارکان اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل کرنے پر اعتراض کا حق رہے گا نہ شور مچانے کا اخلاقی جواز، الیکشن کمشن آف پاکستان نے بھی متنازعہ ویڈیو کی تفتیش میں تاخیر اور سرد مہری سے یہ تاثر پختہ کیا ہے کہ وہ بھی شفاف اور دیانتدارانہ انتخابات کے حق میں نہیں۔ عمران خان نے سینٹ انتخاب میں حفیظ شیخ کی شکست کے بعد اعتماد کا ووٹ حاصل کر کے ڈیمج کنٹرول کیا۔ قومی اسمبلی سے 178ووٹ لے کر عمران خان نے اخلاقی اور سیاسی دونوں سطح پر کامیابی سمیٹی

اور پی ڈی ایم نے سینٹ کی ایک سیٹ جیت کر کوئلوں کی دلالی میں ہاتھ کالے کیے، ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا بیانیہ اپنے انہی سیاہ ہاتھوں سے دفن کیا اور اخلاقی گراوٹ کا ثبوت دیا، تاہم عمران خان اور حکومت کے چیلنجز ختم نہیں ہوئے، اعتماد کاووٹ دے کر قوم اور ایوان کے سامنے سرخرو کرنے والے اتحادیوں کے مطالبات کو ایمانداری سے پورا کرنا، گورننس کی بہتری اور ٹیم میں ردوبدل تا کہ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی پر قابو پانے میں مدد ملے سکے، تین ایسے سنگین چیلنج ہیں جن سے عہدہ برا ہونے کے لیے غیر معمولی تگ و دو اور بہتر صلاحیت کار کی ضرورت ہے۔ اگر یہ اطلاع درست ہے کہ ریاست اور عمران خان کے حقیقی خیرخواہ پنجاب میں تبدیلی کے خواہش مند اور اڑھائی سالہ ناکامیوں سے سبق حاصل کرنے کی نصیحت کر رہے ہیں تو کپتان اسے انا کا مسئلہ نہ بنائیں، وسیم اکرم پلس تعریفں کرکے مزید اپنی مشکلات کو دعوت دیں نہ اپنی اور کارکنوں کی بائیس سالہ جدوجہد پر پانی پھیریں، غلطی کا ادراک اور اسے جرأت مندی سے سدھارنے کی ہمت نظریاتی قیادت کا وصف ہے جبکہ ہٹ دھرمی کار شیطان ہے ؎ تکبر عزازیل را خوار کرد بزنداں لعنت گرفتار کرد اطلاعات تو یہی ہیں کہ پنجاب میں کپتان کی تبدیلی زیر غور ہے، جبکہ اپوزیشن بھی سینٹ الیکشن میں کامیابی سے حوصلہ پا کر پنجاب کو ٹیسٹ کیس بنانا چاہتی ے۔ اتوار کے روز شریف خاندان اور زرداری خاندان کے سپوتوں کی ملاقات کے بعد بلاول بھٹو کی پہلی بار ظہور الٰہی پیلس حاضری اور چودھری شجاعت حسین کی عیادت کو تجزیہ کار اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں، زرداری صاحب کی خواہش یہی نظر آتی ہے کہ پنجاب میں حکمران اتحاد کا دھڑن تختہ کر کے عمران خان کی وفاقی حکومت کو اسی طرح مفلوج کر دیا جائے جس طرح ماضی میں میاں نواز شریف اور ایسٹیبلشمنٹ نے پیپلزپارٹی کی تین وفاقی حکومتوں(بے نظیر بھٹو کے دونوں ادوار سمیت ) کو معطل بنائے رکھا، عمران خان کے قریبی ساتھی یقینا انہیں پٹی پڑھا رہے ہوں گے کہ پنجاب آپ نے چودھری برادران کے حوالے کر دیا تو تحریک انصاف کی وفاقی حکومت مغلوں کے آخری دور حکمرانی کا نقشہ پیش کرے گی ع سلطنت شاہ عالم، ازدلی تا پالم مگر بزدار کی جگہ راجہ بشارت کی آمد بھی چنداں مفید نہیں، ماراچہ ازیں قصہ کہ گائواند و خرافت،یا تو خان صاحب علیم خان جیسے کسی چاک و چوبند، دبنگ ساتھی کو یہ ذمہ داری سونپیں جو لاہور اور وسطی پنجاب میں حقیقی سیاسی مخالفین کا مقابلہ اور بہتر طرز حکمرانی کا اہتمام کر سکے۔ ورنہ چودھری پرویز الٰہی ہی موزوں انتخاب ہیں، جو لوگ اپنی غلطیوں سے بروقت سبق حاصل نہیں کرتے،سیل زماں کے تھپیڑے انہیں اپنے انداز میں سبق سکھاتے ہیں۔

Sharing is caring!

Comments are closed.