یہ آخری شرط کیا تھی ؟ رؤف کلاسرا کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار رؤف کلاسرا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ظفر علی شاہ کو اندازہ نہ تھا کہ بینظیر بھٹو اتنی جلدی فیصلہ کر لیں گی اور ناممکن بات اتنی آسانی سے طے ہوجائے گی۔شاید یہ ذہین لوگوں کی خوبی ہوتی ہے کہ انہیں جلدی کسی بات پر قائل کیا جاسکتا ہے‘

اگر بات میں وزن ہو۔ ذہین انسان کی کمزوری دلیل ہوتی ہے ‘ جونہی کسی دلیل نے قائل کیا وہ فورا ًفیصلہ لے لیتے ہیں‘یہی بینظیر بھٹو نے کیا تھا۔ جونہی ظفر علی شاہ کی باتوں میں انہیں وزن محسوس ہوا تو انہوں نے فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کی۔اپنا فائدہ نقصان کیلکو لیٹ کیا اور فوراً اُٹھ کر اندر گئیں اور اندر سے ہاتھ سے چند سطریں لکھ کر لے آئیں اور کاغذ ظفر علی شاہ کے ہاتھ میں تھما دیا۔اب ظفر علی شیخ اس کاغذ کو پڑھے رہے تھے۔ بینظیر بھٹو نے اس کاغذ پر ایک طرح کا مشترکہ بیان لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ نواز شریف کے ایلچی ظفر علی شاہ سے ان کی ملاقات ہوئی۔ وہ اب نواز شریف کے ساتھ مل کر پاکستان میں مشرف آمریت کے خلاف جمہوریت کی بحالی کیلئے تیار تھیں۔ تاہم اس بیان کے آخر پر بینظیر بھٹو نے نواز شریف کے حوالے سے ایک لائن لکھی تھی جو زیادہ سخت تھی۔ شاید وہ چاہ رہی تھیں کہ ان کے پاکستان میں پارٹی لیڈرز اور فالورز یہ نہ سمجھیں کہ محترمہ نے نواز شریف کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے جن کی وجہ سے خودبینظیر بھٹو جلاوطن ہوئیں‘ زرداری جیل میں گئے اور پارٹی کا برا حال ہوگیا ۔ظفر علی شاہ نے وہ سخت سطر پڑھ کر سر اوپر اٹھایا اور محترمہ کو کہا :جب آپ نے اتنا بڑا دل کر کے نواز شریف کے ماضی کو بھول کر ان کے ساتھ سیاسی طور پر چلنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو پھر اس آخری لائن سے کیا حاصل ہو گا؟ اگر آپ ساتھ دے رہی ہیں تو پھر کھل کر ساتھ دیں‘ اس لائن سے اس سیاسی تحریک اور اتحاد کا سارا مقصد ناکام ہوگا اور دونوں پارٹیوں کے حامی بھی قریب نہیں آ سکیں گے ۔بینظیر بھٹو نے کچھ سوچتی نظروں سے ظفر علی شاہ کو دیکھا اور ان کے ہاتھ سے کاغذ لے کر وہ لائن کاٹ دی جس پر ظفر علی شاہ کو اعتراض تھا۔وہ کاغذ لے کر بینظیر بھٹو نے ظفر علی شاہ کو کہا: چلیں آپ کے ساتھ فوٹو لیتے ہیں۔ بینظیر بھٹو‘ ظفر علی شاہ اور امین فہیم کھڑے ہوئے اور اسی وقت کیمرہ کلک ہوا۔بینظیر بھٹو تصویر کے بعد وہ کاغذ پکڑے اندر گئیں‘ اپنے کمپیوٹر پر بیٹھ کر کچھ لکھا اور کسی کو میل بھیج دی۔ظفر علی شاہ ابھی وہیں بینظیر بھٹو کے ساتھ بیٹھے تھے کہ دھڑا دھڑا خبریں آنا شروع ہوگئیں کہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے مشرف کے خلاف سیاسی اتحاد بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ظفر علی شاہ کو سمجھ نہ آئی کہ یہ سب کچھ اتنی جلدی سے کیسے ہوگیا کہ وہ ابھی بینظیر بھٹو سے باتیں کررہے تھے کہ اتحاد کی خبریں پوری دنیامیں پھیل گئی تھیں۔

Comments are closed.