یہ تحریر آپ کا موڈ ہرا بھرا کردے گی

ذیل میں بیان کیا جانیوالا واقعہ سچ ہے یا محض ایک لطیفہ ، مگر دلچسپ ضرور ہے ۔۔۔۔۔ایک نو آموز بنگالی شاعر نے قتیل شفائی کے پیر پکڑ لئے اور گزارش کرنے لگا، “دادا ہوم بھی شاعری سیکھے گا”….کافی منت سماجت کے بعد قتیل شفائی مان گئے اور بولے – جیسے میں بولوں ویسے ہی تم بولنا!….

بنگالی :- ٹھیک ہے -قتیل شفائی :-“نہ گلہ کروں گا، نہ شکوہ کروں گا….توسلامت رہے اس دنیا میں۔۔۔۔۔۔رب سے یہی دعا کروں گا!”….بنگالی نے دہرایا :-” نہ گیلا کورے گا، نا سوکھا کورے گا….تم سالا… مت رہو اس دنیا میں۔۔۔روب سے یہی دعا کورے گا!….. “سنا ھے اس کے بعد قتیل شفائی نے اس بنگالی کے پاوُں پکڑ لئیے۔۔

Comments are closed.