یہ حسینہ کون تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسکی) ایک زمانے میں ٹورنٹو میں مقیم تجزیہ کار اور بلاگر حیدر مہدی جو تحریک انصاف کے خاصے قریب ہیں‘ نے سنتھیا کی پاکستان میں ’’روشن پاکستان‘‘ سرگرمیوں سے متعلق 2017ء میں انٹرویو کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مجھے پہلے ہی ان کی سرگرمیوں کے بارے میں شکوک و شبہات تھے

نامور کالم نگار عارف نظامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ آیاکہ وہ سی آئی اے یا کسی اور امریکی ایجنسی کی ایجنٹ تو نہیں ہیں؟ مگر انٹرویو میں سنتھیا انتہائی شیریں اور مثبت نظر آئیں لیکن انہوںنے میرے سوالوں کے جواب بڑی مہارت سے دیئے البتہ یہ ضرور باور کرایا کہ میری پاکستان میں سویلین اور فوجی حکام تک رسائی ہے۔ سنتھیا کی پاکستان سے متعلق پانچ حصوں پر مشتمل دستاویزی فلم تو منظر عام پر نہ آ سکی۔ البتہ سوشل میڈیا پر ان کے تبصروں سے پاکستان میں ایک سیاسی اضطراب ضرور پیدا ہو گیا ہے جس سے میرا شک یقین میں بدل گیا ہے کہ وہ سی آئی اے کا اثاثہ ہے، یہ بھی درست ہے پاکستان میں طاقتور حلقوں کی پشت پناہی کے بغیر ایسی اخلاق سے گری باتیں جو سنتھیا نے سوشل میڈیا پر کی ہیں نہیں کی جا سکتیں۔ میں نے جب ان لوگوں کو خفیہ پیغامات بھیجے جو اس کے بارے جانکاری رکھتے ہیں کہ ’’وہ امریکی انٹیلی جنس اثاثہ ہے تو مجھے نرمی سے مشورہ دیا گیا کہ وہ عوامی سطح پر اس کے بارے میں بات کرنا چھوڑ دیں۔ آپ کا شکریہ‘‘… نہیں آپ کا شکریہ کیونکہ پاکستان کے مفادات سب سے پہلے ہیں نہ کہ ایسے گندے کھیل جو کھیلے جا رہے ہیں۔ سنتھیا کے سیاسی نظریات ان کی اپنی زبانی خاصے وا ضح ہیں وہ خود کو برسراقتدار جماعت تحریک انصاف کی سپورٹر کہتی ہیں اور دعویٰ کرتی ہیں کہ وہ پی ٹی آ ئی کی سوشل میڈیا مہم میں بلامعاوضہ خدمات سرانجام دے رہی ہیں

بقول ان کے وہ پیپلزپارٹی اور پختون تحفظ محاذ کے روابط کو طشت ازبام کرنے کے لیے پاکستان آئی ہیں، وہ ایم کیو ایم سے بھی خاصی متا ثر ہیں لیکن ان کی سب سے چو نکا دینے والی وہ تصویریں ہیں جن میں وہ باوردی فوجی افسروں کے سا تھ محو گفتگو ہیں۔ منظر عام پر آنے والے حقائق کے مطابق تحریک انصاف کے وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم سواتی جن کی فیملی ہیوسٹن ٹیکساس میں وسیع کاروبار کرتی ہے‘ کی نواسی ان کو پاکستان میں متعارف کروانے والی ہیں۔ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے یہ درست سوال اٹھایا ہے کہ انھیں دل سال بعد اس قسم کے رکیک حملے کرنے کا کیوں خیال آیا؟۔ بات تو بنیادی طور پر درست ہے کہ کسی کی پلانٹڈ ہیں کیونکہ پاکستان میں ان کے ذرائع آمدن بھی واضح نہیں ہیں۔ ان کے سیاسی نظریات بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں کہ وہ پیپلزپارٹی کے خلاف کام کر رہی تھیں، تحریک انصاف کے بھی بہت قریب ہیں اور کم از کم ماضی میں ان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی گہرے روابط رہے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انھیں ویزے کس کی سفارش پر جاری کیے جاتے رہے محض یہ کہہ کر انھیں حسین حقانی نے بطور سفیر ویزا جاری کیا تھا اور اس معاملے سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی۔ حسین حقا نی تو 26 مئی 2008ء سے22 نومبر 2011ء تک امریکہ میں سفیر رہے ہیں لیکن سنتھیا نے تو سالہا سال سے پاکستان میں اپنی خفیہ سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق انھیں کبھی ٹورسٹ ویزے اور کبھی بزنس ویزے پر پاکستان آ نے دیا جا تا رہا۔

واضح رہے کہ امریکیوں کو پاکستان کا ویزا دینے کا پراسس خاصا سخت ہے اور ایسی خاتون جو عرصہ دراز سے اِدھر اُ دھر پھر رہی ہو کی سرگرمیاں انٹیلی جنس ایجنسیوں سے مخفی نہیں ہوتیں اور ان کی کلیئرنس کے بغیر اس قماش کی خاتون کو سالہا سال کے ویزے جا ری نہیں ہو سکتے۔ امریکہ میں آج کل ایک سیاہ فام جارج فلائیڈ کے پولیس کے ہاتھوں مارے جانے پر سیاہ فام کی زندگیاں بھی قیمتی ہیں کے حوالے سے تحریک زوروں پر ہے۔ عمومی طور پر یہ بات تسلیم کی جا رہی ہے کہ سفید فام آبادی کی اکثریت اور پولیس افریقی امریکی شہریوں کو شدید نسلی تعصب کانشانہ بناتی ہے۔ ہمارے ہاں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے کہ ہما رے سیاستدان اور اشرافیہ ’’گوری چمٹر ی‘‘ پر فدا ہو جا تے ہیں۔سنتھیا کوئی پہلی مثال نہیں ہیں کہ ایک خوبرو خاتون کے لیے اقتد ار کے تمام ایوان کھول دیئے نہ ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں جب وہ سیاچن کے دور ے پر گئیں تو دیگر حکام کیساتھ میں بھی ان کے ہمراہ تھا لیکن ہمارے علاوہ ایک اور صحافی، برطانوی اخبار کی نمائند ہ کرسٹینا لیمب بھی تھیں اس دورے کے چندروز بعد اس وقت کے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ نے ملک بھر کے صحافیوں کو بڑی بریفنگ کے دوران برملا اعتراض کیا کہ کر سٹینا لیمب غیر ملکی ہوتے ہوئے کس حیثیت سے وہاں گئی تھیں۔ جواب واضح ہے کہ ہماری مشرقی روایا ت پر کار بند پاکستانی صحافی خواتین کے مقابلے میں اگر صحافی غیرملکی خاتون ہو، نوجوان ہو اور حسین بھی ہو تو اسے اپنا کام کرنے میں بڑی آ سانی ہو جاتی ہے۔ رحمن ملک نے مطالبہ کیا ہے کہ نام نہاد امریکہ بلاگر کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے جبکہ سنتھیا ڈی رچی کا دعویٰ ہے کہ پیپلزپارٹی انھیں ملک بدر کروانے کی سازش کر رہی ہے لہٰذا انھیں ای سی ایل پر ڈالا جائے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اس قسم کے گند کو لمبی بحث میں پڑنے کے بجائے فی الفور ملک بدر کر دیا جائے اور دوبارہ پاکستان میں اس کا داخلہ ہمیشہ کے لیے بند کردینا چاہیے۔(ش س م)

Comments are closed.