یہ دراصل کس کی ملکیت ہے ؟

کابل (ویب ڈیسک) کابل کا بیوٹی پارلرجو تالبان حکومت میں خواتین کی جنت بنا ہوا ہے، یہ بیوٹی سلیون اب بھی کابل کی ان آخری جگہوں میں سے ایک ہیں جہاں خواتین گھروں سے باہر مل سکتی ہیں، مردوں کی نگاہوں سے دور آزادی کے لمحات محسوس کر سکتی ہیں۔محدثہ ایسی ہی ایک خاتون ہیں

جنہوں نےوارننگز کے باوجود اپنے بیوٹی سیلون کو اب تک کھولا ہوا ہے۔دو ماہ قبل تالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد بہت سی خواتین عوامی مقامات کا رخ نہیں کرتیں اور بعض اوقات بہت ہی حقیقی خطرات کے باعث نجی جگہوں تک محدود ہو گئی ہیں۔لیکن محدثہ کا بیوٹی سیلون فی الحال ایک ایسی جگہ بنی ہوئی ہے جہاں خواتین گھر کے باہر آپس میں مل کر سکون کا سانس لے سکتی ہیں اور اپنی پریشانیوں کو بانٹ سکتی ہیں یا کم از کم تفریح اور فیشن کے حق کو ان لمحات میں بھول جاتی ہیں۔یہ سیلون خواتین کے لیے نخلستان بنا ہوا ہے جو عملے کے لیے آمدنی اور گاہکوں کے لیے خوشگوار لمحات مہیا کرتا ہے لیکن اب شاید اس کے دن بھی گنے جا چکے ہیں۔32 سالہ سیلون کی مالکہ نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’ہم ہار نہیں ماننا چاہتے اور نہ ہی اپنا کام چھوڑنا چاہتے ہیں

Comments are closed.