” یہ عمران خان کیا کررہا ہے “

لاہور (ویب ڈیسک) میرے سسر عبدالعزیز ملک اکثر فرماتے ہیں کینیڈا میں ہمارے پاس اگر یہ ’’خواب‘‘ نہ ہو کہ اگلے چھ ماہ ہم نے پاکستان جا کے گزارنے ہیں ہمارے لئے ایک پل کینیڈا میں گزارنا مشکل ہو جائے۔ گو کہ وہ جب پاکستان آتے ہیں یہاں کے حالات دیکھ کر ان کا حی بہت کڑھتا ہے۔

نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔خصوصاً یہاں کمزور لوگوں کے ساتھ جو ظلم ہوتے ہیں، جو ناانصافی ہوتی ہے ۔ یہاں کے عدالتی نظام میں جو بگاڑ ہے۔ یہاں کی ناقص حکمرانی نے ہر شعبے میں جس طرح کی بربادیاں برپا کر رکھی ہیں، وہ سب ان کے لئے انتہائی تکلیف دہ ہیں۔ اس کے باوجود انہیں پاکستان اچھا لگتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں ، ’’یہ سب خوبیاں پاکستان میں بسنے والے کروڑوں کے ’’ہجوم‘‘ کی وجہ سے ہیں۔ پاکستان کی وجہ سے نہیں ہیں۔ عمران خان ان کی واحد آخری امید تھی جو ، اب دم توڑتی جا رہی ہے۔ اس ’’شمع‘‘ کو روشن کرنے کے لئے گزشتہ عام انتخابات میں اپنا ووٹ کاسٹ کرنے وہ خاص طور پر کینیڈا سے پاکستان آئے تھے۔ اس ’’شمع‘‘ کو ٹمٹماتے دیکھ کر ان کا دل بجھ گیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں عطاء اللہ عیٰسی خیلوی جو کہتے ہیں ’’اچھے دن آئیں گے‘‘ وہ ان کی زندگی میں آ جائیں۔ میرا وزیر اعظم عمران خان سے جو ایک دیرینہ وزارتی تعلق ہے اس نسبت سے میرے سسر عبدالعزیز ملک ہر دوسرے چوتھے روز ٹورنٹو سے فون پر مجھ سے پوچھتے ہیں۔ ’’یہ عمران خان کیا کر رہا ہے؟‘‘ میں عرض کرتا رہوں گا ’’ وہی کر رہا ہے جو اسے نہیں کرنا چاہئے تھا اور جو کرنا چاہئے تھا وہ نہیں کر رہا ۔’’ وہ سسٹم تبدیل کرنے آیا تھا۔ یہ غلیظ سسٹم اتنا طاقتور ہے اس نے اسے تبدیل کر دیا۔ اب ’’سنجھیاں ہوجان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے‘‘ والا معاملہ ہے۔ اس میں سارا قصور عمران خان کا نہیں ، غلیظ عوام یعنی میرا بھی ہے میں تبدیل ہونا ہی نہیں چاہتا ۔ نہ میں یہ چاہتا ہوں سسٹم تبدیل ہو۔ جس سسٹم کے ہم سب ’’بینفشری‘‘ ہیں ، ہم کیسے چاہیں گے وہ تبدیل ہو جائے؟۔ سو اگر کسی ’’معجزے‘‘ کے تحت کوئی اچھا سسٹم یہاں کبھی رائج ہو بھی گیا ہم سب اس کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے کہ ہمارا پرانا سسٹم ہمیں واپس کیا جائے۔

Comments are closed.