یہ لوگ احتساب کے نام پر تباہی کر رہے ہیں ۔۔۔۔ سپریم کورٹ کے ریمارکس نے پوری قوم کو ہکا بکا کر ڈالا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا محفوظ فیصلہ سنانے کے موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ جج کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ عوام کی نظروں میں ہے، ہم ججز کو اس حوالے سے محتاط ہونا چاہیے، آپ کی ناک کے نیچے ضلعی عدلیہ میں کیا ہوتا ہے

آپ کو علم نہیں، حکومت کے پاس بڑے وسائل ہوتے ہیں، اس معاملے پر عدالت کو ایکشن لینا پڑا۔جسٹس مقبول باقر نے کہا ہو سکتا ہے اس مقدمے میں اس بات کی تصحیح کریں، ملک میں احتساب کےنام پر تباہی ہو رہی ہے، احتساب کے نام پر جو تباہی ہو رہی ہے اس پر بھی لکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ تمام کارروائی کے بعد ڈوگر کو لاکر کھڑا کر دیا گیا، میں اپنی تفصیلات آرام سے نہیں لے سکتا تو ایک جج کی تفصیلات وحید ڈوگر کے پاس کیسے آئیں؟جسٹس یحیٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ ایشو یہ ہے کب حکومت نے گوشوارے مانگے؟ جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ میں نے کسی سے گوشوارے نہیں منگوائے، اے آر یو نے معاملہ ایف بی آر کو بھیجا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ انجینئرنگ کے الزامات لگتے ہیں، مجھےافسوس ہےکہ اس میں ہمارے ادارے کو استعمال کیا گیا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم کے پاس نئی وزارت بنانے کا اختیار ہے، وزیراعظم کے پاس نئی ایجنسی بنانے کا اختیار کہاں سے آیا؟فروغ نسیم نے کہا کہ وزیراعظم کو کوئی بھی چیز کابینہ کو بھیجنے کا اختیار ہے، جس پر جسٹس یحیٰ آفریدی نے کہا کہ اے آر یو وفاقی حکومت کیسے ہو گئی؟ اے آر یو نے ایف بی آر سے ٹیکس سے متعلق سوال کیسے کیا؟جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اےآر یو کسی شہری کو قانون کے بغیر کیسے ٹچ کر سکتا ہے، جب کہ جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ وزیراعظم کے اختیارات بھی کسی قانون کے مطابق ہوں گے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.