یہ معین اختر ہیں اور یہ ۔۔۔۔۔۔!!!!

کراچی (ویب ڈیسک) نامور پاکستانی اداکار و کامیڈین معین اختر اپنی زندگی کے دو واقعات کو بہت اہم قرار دیتےتھے۔ان کے مطابق جب وہ ایک بار اسلام آباد میں جنرل ضیاء الحق کے شو میں شرکت کرنے جا رہے تھے، تو والد نے اصرار کیا کہ وہ بھی ان کے ساتھ چلیں گے۔

معین اختر نے بتایا کہ حفاظتی پروٹوکول ہوتا ہے، ایسے وہ اچانک انہیں نہیں لے جا سکتے، جس پر والد نے برجستہ اور بے ساختہ کہا کہ ’بھلا تمہیں کون روکے گا؟‘معین اختر کے مطابق یہ الفاظ اس بات کی عکاسی کرتے تھے کہ والد نے تسلیم کر لیا تھا کہ معین اختر بلاشبہ شہرت یافتہ فنکار ہیں، جن کی عام سے خواص تک بخوبی شناسائی ہے۔اسی طرح دبئی میں ہونے والے دلیپ کمار کے شو میں شہنشاہ جذبات نے معین اختر کے لیے یہ تعریفی کلمات ادا کیے کہ ’معین اختر کا نام سنا تھا اور ان کی خداداد ذہانت اور شہرت سے واقف ہوں۔ جب یہ معلوم ہوا کہ میرا انٹرویو معین اختر لیں گے تواِسے اپنے لیے اعزاز سمجھا۔‘معین اختر کے مطابق یہ تاثرات اس شخصیت کے تھے جنہیں وہ زندگی بھر اپنا آئیڈل تصور کرتے تھے۔معین اختر کے کیریئر میں طویل دورانیے کا ڈراما ’روزی‘ ایک سنگ میل ثابت ہوا۔ اسی طرح انور مقصود کے ساتھ مختلف پروگراموں کو بھی غیر معمولی پذیرائی ملی۔ کامیڈی سے بھرے مختلف ڈراموں میں معین اختر کی اداکاری کا معیار عروج پر رہا۔عمران خان کے شوکت خانم ہسپتال کے لیے چندہ مہم کے سلسلے میں ہونے والے ملکی اور غیر ملکی پروگراموں میں بھی معین اختر کی شرکت یقینی ہوتی۔پرائیڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز یافتہ معین اختر کا کہنا تھا کہ جب اردن کے بادشاہ حسین بن طلال کے سامنے ایک شو کی میزبانی کی تو اس تقریب میں جنرل ضیاء الحق اور اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو بھی شریک تھے۔معین اختر نے لکھے ہوئے سکرپٹ سے ہٹ کر کہنا شروع کیا کہ ’جب میں بچپن میں کتابیں پڑھتا تھا تو اس میں کسی بھی کہانی کے آغاز میں لکھا ہوتا تھا کہ کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا اور آج اپنے سامنے حقیقی بادشاہ کو دیکھ کر محسوس ہورہا ہے کہ میرا خواب حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔اردن کے بادشاہ ہی نہیں محفل میں شریک ہر مہمان ان کے اس جملے پر مسکرائے بغیر نہ رہا۔ اردنی بادشاہ نے جنرل ضیا الحق سے معین اختر کی تعریف کی تو انہوں نے برجستہ کہا ’معین ہمارے ملک کا اثاثہ ہے۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *