یہ نوجوان کون تھا اور اصل کہانی کیا تھی ؟

لاہور (ویب ڈیسک) سابق بیورو کریٹ اور مشہور کالم نگار شوکت علی شاہ اپنے ایک تازہ ترین کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔پے درپے تلخ تجربوں کے بعد بھٹو نے بڑی سوچ بچار کے بعد ایک ایسے شخص کو وزیراعلیٰ مقرر کیا جو HAPPY GO LUCKY TYPE انسان تھا۔ جسکی سوچ اپنے محیط سے بھی باہر نہ نکل سکتی تھی۔

سہیل پسند، من موجی، میں غرق مئے ناب بعد حیرت و مستی کی مجسم تصویر، لکیر کا فقیر، نواب ابن نواب، صادق قریشی، قریشی صاحب چونکہ اپنے پیشرئوں کا حشر دیکھ چکے تھے اس لئے ضرورت سے زیادہ محتاط ہو گئے بڑے دلچسپ انسان تھے۔ بھٹو کے زوال تک وزیراعلیٰ رہے۔ بڑی شستہ گفتگو کیا کرتے تھے۔ میں جب 1990-93ء میں ڈپٹی کشمیر تھا تو کھانے کی میز پر ان سے طویل گفتگو ہوتی۔ ایک دن ماضی کی راکھ کر ہوتے ہوئے بولے۔ شاہ صاحب!عجیب دن تھے۔ہر روز روز عید اور ہر شب شب برات تھی۔ میں جب وزیراعلیٰ بنا تو بھٹو صاحب کا شکریہ ادا کرنے گیا وہ اتفاق سے لاہور آئے ہوئے تھے۔ کہنے لگے صادق قریشی! تم ہر شام ہوٹل انٹرنیشنل میں جاوید اکرم ٹاپسی (CSP) کے ساتھ مے نوشی کرتے ہو میرے پاؤں کے نیچے سے زمین سرک گئی کیونکہ یہ بات درست تھی۔ مزید فرمایا، اب تم وزیر نہیں بلکہ وزیراعلیٰ بن گئے ہو۔ یہ سلسلہ ختم کر دو۔ یہ سرکاری افسر کسی نہ کسی مرحلے پر بلیک میل کرتے ہیں۔ اگر پینی ہی ہے تو اکیلے شغل شب کر لیا کرو! میں گورنر ہاؤس سے نکل کر پنجاب کلب آیا۔ بارٹینڈر مے لایا۔ گلاس میرے لبوں تک پہنچا ہی تھا کہ دو واقف کار ممبر آ گئے۔ چھوٹتے ہی بولے۔ نواب صاحب مبارک، مبارک! کس بات کی؟ میں نے حیران ہو کر پوچھا سُنا ہے آپ کے بیٹے ریاض قریشی کی شادی بے نظر سے طے پا گئی ہے۔ یہ سنتے ہی میرے اوسان خطا ہو گئے۔ پیگ لرزتے ہوئے ہاتھوں سے پھسل کر زمین پر گر گیا۔ میں نے کار نکالی اور سیدھا گورنر ہاؤس پہنچ گیا۔ بھٹو صاحب اپنے بیڈ روم میں چلے گئے تھے۔ پیغام بھیجا تو انہوں نے

مجھے وہیں بلا لیا۔ میری پریشان حالی کو بھانپنے ہوئے کہنے لگے صادق! کیا بات ہے، بہت گھبرائے ہوئے ہو۔ پسینہ تمہاری پیشانی سے پہاڑی چشموں کی طرح پھوٹ رہا ہے؟ عرض کیا۔ آج ایک ایسی بات ہو گئی جو کل آپ تک کسی نہ کسی رنگ میں پہنچ جائے گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کہا جائے نواب صادق قریشی نے مے نوشی کے دوران ڈینگ ماری ہے۔ مجھے کچھ ممبران نے کہا ہے کہ میرے بیٹے ریاض کی بے نظیر کے ساتھ شادی طے پا گئی ہے۔ بھٹو صاحب یہ سن کر کسی گہری سوچ میں چلے گئے۔ پھر خود ہی خاموشی کا طلسم توڑتے ہوئے بولے لوگوں کا کیا ہے۔ انہوں نے تو اولیا اور اوتار کو بھی نہیں بخشا۔ میں تو پھر ایک انسان ہوں۔ JUST GO AND RELAX میں مطمئن ہو کر واپس کلب آیا اور بار ٹینڈر کو کہا پٹیالہ! DOUBLE PEG ! اسی طرح چوہدری فضل الہٰی صدر پاکستان کا ایک دلچسپ قصہ سنایا۔ چوہدری صاحب ہر سال ایک ماہ کی چھٹی لیکر آسٹریا میڈیکل چیک اپ کے لئے جاتے تھے۔ بھٹو صاحب کہنے لگے۔ یار پتہ تو کراؤ یہ وہاں جا کر کرتا کیا ہے؟ میں نے حسب حکم وی۔ آنا میں پاکستان کے سفیر سے بات کی۔ ہم نے ایک پرائیویٹ سراغ رسان مقرر کیا۔ اس نے 25 صفحوں کی دلچسپ رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ کا خلاصہ یہ تھا کہ چوہدری صاحب وہاں THERAPY کرواتے ہیں۔ ایک بھیڑ کے بطن سے قبل از وقت بچہ نکال کر اس کے لہو میں چند دوائیں ملا کر ٹیکے تیار کیے جاتے ہیں جو سات ٹیکے لگنے کے بعد آدمی ایک سال کے لئے جوان ہو جاتا ہے۔

رپورٹ پڑھ کر بھٹو صاحب بہت محظوظ ہوئے۔ بولے: اچھا تو یہ کرتا ہے بوڑھا شیطان! یہ تو چُھپا رستم نکلا! کچھ دنوں کے بعد بھٹو صاحب نے مجھے بلایا اور کہا ، صادق! میرے میڈیکل چیک اپ کا بھی وہاں بندوبست کرو۔ اس قسم کے بے شمار واقعات سنائے۔ میں نے کہا آپ کتاب کیوں نہیں لکھتے؟ بولے، میری صحت اور حالات اب اجازت نہیں دیتے اپنی ہی اولاد کا شکار ہوں۔ ہو سکے تو تم ہی انہیں قلمبند کر دینا۔ (چنانچہ میں نے تمام واقعات اپنی زیر طبع کتاب ’’شاہ داستان‘‘ میں من و عن قلمبند کر دئیے ہیں۔بھٹو صاحب کے زوال کے بعد پنجاب میں کئی وزراء اعلیٰ آئے۔ میاں نواز شریف ، غلام حیدر وائیں ، منظور وٹو، عارف نکئی ، میاں شہباز شریف، چودھری پرویز الٰہی اور اب خیر سے وسیم اکرم پلس بزدار صاحب اس منصب جلیلہ پر متمکن ہیں۔ ان میں سے اکثر اصحاب کا ذکر کسی نہ کسی رنگ میں کیا جا چکا ہے۔ تمام باتوں کا اعادہ تو تضیع اوقات ہو گا۔ مگر جو واقعات کسی طور رہ گئے ہیں ان کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ میاں نواز شریف جنرل جیلانی کی دریافت تھے۔ جنرل صاحب کا ایک جگری دوست بریگیڈئر قیوم میئروں کی تلاش میں سرگرداں رہتا۔ وہ ان کا سوداگر تھا۔اکثر ہیرے کانوں میں دریافت ہوتے ہیں، قیوم نے اسے اتفاق فائونڈری کی بھٹی میں سے ڈھونڈ نکالا۔ تراش خراش کر جب اس کی نمائش ہوئی تو آنکھیں اس کی چکا چوند سے خیرہ ہو گئیں۔ انہیں پہلے محکمہ خزانہ دیا گیا اور پھر وزارت علیا کا قلمدان تھما دیا گیا۔ ضیاء الحق کہاں پیچھے رہنے والا تھا اس نے نہ صرف اسے اپنے سر کے تاج میں ٹانکا بلکہ بقیہ عمر بھی انہیں دان کر دی۔ یہ دعائیہ کلمات جنرل صاحب نے لاہور ائیر پورٹ پر ادا کئے ۔ نیک انسان تھے۔ غالباً قبولیت کی گھڑی تھی۔ اس لیے ان کی دعا جلد ہی قبول ہو گئی اور وہ ایک جہاز کے حادثے میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ میاں صاحب کو اللہ تعالیٰ نے جو طویل عمر عطا کی ہے اس میں یقیناً جنرل صاحب کے بقایا جات بھی شامل ہیں۔(ش س م)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *