یہ کس کا گھرتھا ؟ اوریا مقبول جان کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔بھارت کے ہر ٹیلی ویژن چینل پر دھاڑنے والے مشرف کا جو روپ خورشید قصوری کی کتاب میں نظر آتا ہے اور اس میں درج جس فارمولے کے تحت کشمیر کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا جا رہا تھا،

تو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے۔ جو شخص عالمی سطح پر یہ جھوٹ بول جائے کہ مجھے امریکہ نے یہ وارننگ دی تھی کہ ’’اگر تم نے ہمارا ساتھ نہ دیا تو ہم تمہیں پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں گے‘‘ جبکہ اس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ جنرل محمود گواہ ہیں کہ کسی امریکی نے پاکستان میں کسی شخص کو ایسا کوئی فقرہ یا وارننگ نہیں دی تھی۔ وہ ان دنوں پاکستان کی فوجی مدد بحال کروانے کیلئے خفیہ ایجنسیوں کی سطح پر سی آئی اے سربراہ جارج ٹیننٹ (George Tenet)سے ملاقات کرنے امریکہ گئے ہوئے تھے۔ جنرل محمود کو 9 ستمبر 2001ء کو مایوس لوٹا دیا گیا تھا اور ان کا اس وقت بھی ’’کشکول‘‘ خالی تھا۔ لیکن صرف دو دن بعد گیارہ ستمبر کا واقعہ ہو گیا۔ اگلے دن جنرل محمود سی آئی اے کے ہیڈ کوارٹر لینگلے (Langley) میں جارج ٹیننٹ سے ملنے گئے۔ بقول ان کے جیسے ہی میں اس سے گلے ملا تو، اس کے آنسو میرے کندھے پر ٹِپ ٹِپ کرنے لگے۔ دنیا کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی کا سربراہ اس واقعے کے بعد بالکل بے بس نظر آیا۔ جنرل محمود کہتے ہیں کہ اس کے بعد یوں لگا جیسے میرے والا ’’کشکول‘‘ امریکیوں نے پکڑ لیا ہو۔ اس بات کا تذکرہ جارج ٹیننٹ نے خود کیا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ وائٹ ہائوس کی صبح کی روزانہ میٹنگ میں ہم نے پاکستان سے سات مطالبات کی ایک فہرست تیار کی۔ اس علی الصبح روزانہ میٹنگ میں صدر بش، وزیر خارجہ، پینٹاگون کا سربراہ اور سی آئی اے چیف شامل ہوتے ہیں۔

میٹنگ کا یہ متفقہ تجزیہ تھا کہ پاکستان ان میں سے زیادہ سے زیادہ دو یا تین مطالبات مان لے گا۔ اور اگر اتنے بھی مان گیا تو یہ ہمارے لئے خوش بختی ہو گی کیونکہ میٹنگ کے تمام ارکان یہ سمجھتے تھے کہ “It was a Nightmare entering Afghanistan without Pakistan’s Help”۔ ’’افغانستان میں پاکستان کی مدد کے بغیر داخل ہونا ایک ڈرائونا خواب تھا‘‘۔ اس ڈرائونے خواب کی خوبصورت تعبیر اس وقت نکلی جب مشرف نے دو تین کی جگہ ساتوں کے ساتوں مطالبات مان لئے ۔ ان مطالبات میں پاکستان کی سرزمین پر امریکہ کو اڈے دینا شامل نہیں تھا۔ لیکن مشرف نے اپنی غلامانہ ذہنیت اور حریصانہ خصلت کے تحت یہ کام بھی کر دیا۔ لیکن اس سب کے باوجود وہ ٹیلی ویژن کے پروگرام میں ’’گرجتا برستا‘‘ رہا اور اس کے سیکولر، لبرل مداح تالیاں بجاتے رہے۔ نسیم انور بیگ مرحوم ان لوگوں میں سے تھے جنہیں قدرت اللہ شہاب سے براہِ راست کسبِ فیض حاصل ہوا تھا۔ وہ جس مکان میں رہتے تھے اسے شہاب صاحب نے اپنی نگرانی میں بنوایا تھا۔ اسلام آباد کے اس گھر میں کون تھا جس نے حاضری نہ دی ہو۔ ان کی وسیع و عریض کھانے کی میز، جسے وہ اپنی مرحوم بیوی کے نام پر ’’اختر آنٹی کی میز‘‘ کہتے تھے، وہاں گلبدین حکمت یار سے جنرل حمید گل اور چیچنیا کے زیلم خان سے کرنل امام اور خالد خواجہ تک لاتعداد لوگوں کی زیارت ہوتی رہی۔ علمائ، صحافی، بیوروکریٹ، جرنیل اور سیاستدان سب ان کی میزبانی کو اعزاز سمجھتے تھے۔ میرے ساتھ ایک خاص مہربانی کرتے، کہ اپنے ساتھ والی کرسی جو خالی ہوتی، اس پر بٹھاتے۔

کیا زمانہ تھا امریکہ ، افغانستان پر دھاوا بول چکا تھا۔ مشرف لاتعداد بیگناہ تہجد گزار افراد کو پکڑ کر گوانتانا موبے بھیج کر پیسے کما رہا تھا۔ جیکب آباد، شمسی اور دالبندین سے امریکی جہاز پرواز کرتے تھے، اور ہمارے مسلمان افغان بھائیوں پر موت کی بارش برساتے تھے۔ کوئٹہ میں ہونے کی وجہ سے یہ تمام مناظر میری آنکھوں کے سامنے رقصِ بسمل کے طور پر دکھائی دیتے۔ کوئٹہ شہر میں خالد بیس پر امریکی قابض تھے اور وہ راستے جو کبھی ھنہ اور اوڑک کی خوبصورت وادیوں کو جاتے تھے اب عام آدمی کیلئے خواب ہو چکے تھے۔ کوئٹہ سے جب بھی اسلام آباد جانا ہوتا، نسیم انور بیگ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ کر شکایتوں کا انبار لگا دیتا۔ وہ حسبِ معمول ایک صوفی کی طرح صبر کی تلقین کرتے رہتے۔ ایک دن مشرف کے بارے میں میری شکایت بھری فریاد سے اچانک ایک ایسے موڈ میں آ گئے جس میں وہ کبھی کبھی بڑی اہم بات کرنے کیلئے آیا کرتے تھے۔ کہنے لگے، دیکھو! مشرف کی بات مت کرنا اب۔ کچھ کشتیوں کے نصیب میں ڈوبنا نہیں ہوتا، طوفان کے مسلسل تھپیڑے ان کا مقدر ہوتے ہیں۔ بیگ صاحب کی اس پیش گوئی نے ایک اطمینان دیا اور میں نے 2004ء میں ہونیوالے آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے ایوارڈ کی تقریب جس میں مشرف مہمانِ خصوصی تھا، بس اتنا کہا کہ ’’میں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ مجھے اور جنرل مشرف کو اتنی زندگی ضرور دے کہ ہم دونوں افغانستان سے امریکہ کو ذلیل و رُسوا ہو کر نکلتے ہوئے دیکھیں‘‘۔ میرے اس فقرے پر لاتعداد تمسخر انگیز قہقہے برسے تھے اور یہ قہقہے 15 اگست 2021ء تک مسلسل برستے رہے

، مگر تالبان کی فتح کے بعد مشرف سمیت ہر ٹیکنالوجی پرست سیکولر، لبرل کے منہ لٹک کر رہ گئے۔ عمران خان صاحب نے ’’ہر گز نہیں‘‘ (Absolutely not) امریکی اڈوں کے بارے میں کہا تھا، جس سے پاکستانی قوم کو یہ دکھانا مقصود تھا کہ ہم جرأت مند ہیں۔ لیکن اس وقت سے پس پردہ ایک(Absolutely yes) یعنی ’’جو حکم میرے آقا‘‘ بھی چل رہا ہے۔ امریکہ کو اس وقت پاکستانی اڈوں کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اس نے مانگے ہیں۔ امریکہ کو صرف تالبان حکومت کو دُنیا بھر میں تنہا کرنے میں ہماری مدد چاہئے۔ اس کیلئے ہزار بہانے تراشے گئے ہیں، وسیع البنیاد حکومت ہو تو مانیں گے، عورتوں کو حقوق دو تو مانیں گے۔ غرض ایک طویل فہرست ہے اور امریکیوں نے یہ فہرست پاکستان کے ہاتھ میں تھما دی ہے۔ وہ عمران خان جو افغانوں سے وسیع البنیاد حکومت کا مطالبہ کر رہا ہے، خود نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ایک میز پر بھی نہیں بیٹھ سکتا۔ اسے کہتے ہیں امریکی غلامی کا تازہ پھندا جو ہمیں ’’جو حکم میرے آقا‘‘ والی سطح پر لے آیا ہے۔ ہم اس عالمی بے ضمیری میں پورے کے پورے حصہ دار بن چکے ہیں جو مصر میں سیسی اور پاکستان میں ایوب، یحییٰ، ضیاء اور مشرف کے فوجی قبضے کو تو تسلیم کر لیتی ہے لیکن تالبان کو تسلیم نہیں کرتی۔ 20 سال بعد آج حالات پھر ویسے ہی ہیں۔ امریکی بتاتے ہیں کہ ہم نے گیارہ ستمبر کے بعد پاکستان کو بھارتی اٹیک سے ڈرایا تھا اور آج بھی بھارت کے ساتھ چار ملکی اتحاد بنا کر پاکستان کو بھارتی اٹیک سے ڈرایا جا رہا ہے۔ کاش !نسیم انور بیگ زندہ ہوتے تو پوچھتا! عمران خان کی کشتی نے ڈوبنا ہے یا مسلسل تھپیڑے کھانا ہیں۔

Comments are closed.