یہ کون ہے اور کہاں چھپا ہوا تھا ؟

سڈنی (ویب ڈیسک) آسٹریلیا میں پولیس کا کہنا ہے کہ ملک میں ’مطلوب ترین شخص‘ کو ایک دوسرے صوبے کی طرف فرار ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا گیا ہے۔33 سالہ مصطفیٰ بلوچ کو گذشتہ 17 دن سے ملک بھر میں تلاش کیا جا رہا تھا۔ 17 روز پہلے ملزم نے اپنی ایڑی پر حکام

کی جانب سے لگایا گیا وہ آلہ اتار دیا تھا جس کی مدد سے حکام سڈنی میں ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے مخبری کے بعد ایک ٹرک کو روکا جس کے نتیجے میں یہ گرفتاری عمل میں آئی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ سنگین مجرم مصطفیٰ بلوچ اس ٹرک پر لدے ایک کنٹینر میں موجود ایک کار میں چھپا ہوا تھا۔پولیس کے مطابق ٹرک کی تلاشی کے دوران انھوں نے دیکھا کہ کنٹینر پر تالا نہیں لگا ہوا تھا اور جب انھوں نے کنٹینر پر دستک دی تو اندر سے بھی کسی نے جوابی دستک دی۔نیو ساؤتھ ویلز پولیس کے افسر راب کرِچلو کا کہنا ہے کہ ’وہ حیرت میں تھا، اسے لگا کہ شاید وہ زیادہ چالاک ہے۔‘حکام کا الزام ہے کہ گرفتاری کے وقت ملزم نیو ساؤتھ ویلز سے کوئینزلینڈ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ریاست کے پولیس منسٹر ڈیوڈ ایلیئٹ کا کہنا ہے کہ ‘آج نیو ساؤتھ ویلز کی پولیس کے لیے ایک انتہائی شاندار دن ہے۔ڈیوڈ ایلیئٹ کا کہنا ہے کہ اب وہ مصطفیٰ بلوچ کو ضمانت دیے جانے پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی تلاش میں کافی مالی وسائل خرچ کیے گئے ہیں۔مصطفیٰ بلوچ پر الزام ہے کہ وہ ایک مجرمانہ نیٹ ورک میں اعلیٰ عہدیدار ہیں اور پولیس کے مطابق مفرور ہونے کے دوران وہ عوام کے لیے ایک خطرہ تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ٹرک ڈرائیور پر بھی ایک مفرور شخض کو پناہ دینے کے الزام میں فردِ جرم عائد کی جائے گی۔

Comments are closed.