یہ کیا کہانی تھی ؟ جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان فلم انڈسٹری کے مایہ ناز ڈائریکٹر مسعود بٹ پاکستان فلم انڈسٹری کے وہ کم عمر ڈائریکٹر ہیں جن کے کریڈٹ پر 100 سے زائد فلمیں ہیں، ان کو یہ اعزاز بھی جاتا ہے کہ وہ سلطان راہی کے ساتھ سب سے زیادہ 32 فلمیں کرنے والے ڈائریکٹر ہیں۔

مسعود بٹ سلطان راہی کو آج بھی اپنا محسن کہتے ہیں۔ سلطان راہی کے بارے میں ان سے بات کرنا بہت ضروری تھا، مسعود بٹ بتاتے ہیں کہ سلطان راہی ان کو ’’سوداں‘‘ کہہ کر بلاتے تھے۔ میں جب فلم انڈسٹری میں آیا تو راہی صاحب بھی سپورٹنگ رول کرتے تھے۔ میں نے اپنی پہلی فلم ’’دو چور‘‘ شروع کی جس میں ان کا کیریکٹر نہیں تھا۔ ان کے ساتھ میری علیک سلیک بھی نہیں تھی۔ ’’دو چور‘‘ اور ’’چالان‘‘ بنائی اور دونوں فلمیں کامیاب رہیں تو مجھے جاوید حسن نے کہا کہ تم سلطان راہی کے ساتھ کام کیوں نہیں کرتے۔ میں نے کہا میری ان کے ساتھ کوئی انڈر اسٹینڈنگ نہیں ہے۔ جاوید حسن نے مجھے کہا کہ میں تمہیں ایک بات بتائوں کہ ’’ جب تم سلطان راہی کے ساتھ فلم کرو گے تو پھرکسی کے ساتھ فلم نہیں کرو گے۔‘‘ میں نے فلم شروع کی تو سلطان راہی کے پاس جاوید حسن کے ہی ساتھ اے ایم اسٹوڈیو گیا۔ وہ وہاں فلم کی شوٹنگ کر رہے تھے۔ وہاں میری ان کے ساتھ پہلی علیک سلیک ہوئی۔ میری فلم میں انہوں نے کام کرنے کی حامی بھر لی۔ اس دن سے لے کر ان کے زندگی کے آخری دن تک، صرف ایک فلم ’’دل‘‘ بنائی تھی۔ جو نئے فنکاروں کی فلم تھی، اس میں سلطان راہی نہیں تھے۔ مجھے جاوید حسن مرحوم کا وہ فقرہ یاد آتا ہے ’’جب تم راہی صاحب کے ساتھ کام کرو گے پھر کسی کے پاس نہیں جائو گے‘‘ ایسا ہی ہوا،

سلطان راہی اور میرا ساتھ چلتا رہا اور ایسا چلا کہ جب فلم ہٹ ہوئی اس کے ساتھ اور فلمیں بنتی رہیں، لیکن جب فلم ’’دارا بلوچ‘‘ بنی اس فلم میں سلطان راہی نے مجھے کچھ سمجھا کہ واقعی یہ کوئی کام کرنا جانتا ہے۔’’دارا بلوچ‘‘ انجمن کے ساتھ میری پہلی فلم تھی، اس میں جب میں انجمن کو سین بتاتا تھا تو انجمن اِدھر کی بجائے اُدھر ہو جاتی تھی۔ میں نے دو تین بار ان کو سمجھایا اور پریشان ہوا تو سلطان راہی بہت ہنسے۔ انہوں نے مجھے کہا تمہاری انجمن کے ساتھ پہلی شوٹنگ ہے۔ میں نے کہا جی ہاں، تو کہنے لگے کہ یہ ایسا ہی کرتی ہے۔ یہ جہاں جاتی ہے جانے دو میں کر لوں گا۔ بہرحال فلم ’’دارا بلوچ‘‘ لگی اور سپر ہٹ ہوئی اور میری شناخت بن گئی کہ مسعود بٹ کوئی ڈائریکٹر ہے۔ اس کے بعد فلمیں بنتی رہیں۔ پھر عید پر میں ہاٹ فیورٹ ڈائریکٹر بن گیا۔ پہلی بار عید پر فلم ’’اللہ رکھا‘‘ آئی۔ اس کے بعد ہر عید پر فلم آئی، ہر پروڈیوسر کی خواہش ہوتی تھی کہ مسعود بٹ سے فلم بنوائوں اور میں اس وقت تک فلم نہیں لگا سکتا تھا جب تک راہی صاحب کا ساتھ میرے ساتھ نہ ہو، کیونکہ وہ اس وقت مصروف ترین ایکٹر تھے۔ ہر ڈائریکٹر کی فلم ان کے پاس تھی۔ میں نے جب ان سے کہا کہ راہی صاحب عید پر یہ فلم لگانی ہے، کہتے اچھا۔ وہ اپنے سیکرٹری شہباز کو میرے پاس بھیج دیتے۔ ’سوداں‘ کے ساتھ طے کرو اور شوٹنگ کا ٹائم دو۔

مرتے دم تک انہوں نے ہر عید پر میری فلم لگوائی۔ یہ ان کا میرے لئے ایک پیار بھرا تحفہ ہوتا تھا۔ یہ ان کی مہربانی تھی۔ میرا ان کا ساتھ اس وقت زیادہ بن گیا جب ڈائریکٹر یونس ملک نے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ سلطان راہی بہت زیادہ پیسے لیتا ہے۔ اڑھائی، تین لاکھ روپے اسے نہیں لینے چاہئیں۔ یونس ملک پر راہی صاحب کے بڑے احسان تھے بلکہ اُس وقت جو بھی ڈائریکٹر تھا کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ راہی صاحب کے احسان اس پر نہیں ہیں۔ جو میری اس بات سے انکاری ہے وہ میرے ساتھ مناظرہ کر لے۔ دائود بٹ، پرویزرانا، حسن عسکری، اقبال کشمیری، نسیم حیدر جو بھی ڈائریکٹر اس وقت کام کر رہے تھے سب پر سلطان راہی کے احسان تھے۔ راہی صاحب نے کچھ نہ کچھ ان کو فائدہ پہنچایا ہے۔ یونس ملک نے کہا کہ میں سلطان راہی کو اپنی فلم میں نہیں لوں گا۔ یونس ملک نے اپنی فلم ’ میں ان کو نہیں لیا۔ میں نے فلم ’’شیراں دی ماں‘‘، ’’قرض‘‘، اور ’’قیدی‘‘ شروع کی۔ میں نے تین فلموں کا راہی صاحب کو ساڑھے تین، تین لاکھ کے حساب سے پچاس، پچاس ہزار روپے ایڈوانس دے دیئے۔ یونس ملک کے ساتھ میری بہت دوستی تھی اس نے مجھے بہت برا بھلا کہا کہ تم نے ساڑھے تین لاکھ روپے ایک فلم کے کیوں دیئے ہیں۔ ہم تو سلطان راہی کو سبق سکھانا چاہتے تھے۔ میں نے کہا کہ دیکھئے ملک صاحب جس کی ضرورت ہوتی ہے، یہ دنیا کا ایک

اصول ہے، اس کو پیسے دینے پڑتے ہیں، وہ پیسے لیتا ہے۔ جہاں بھی فلم بنتی ہے، اسٹارڈم ہوتا ہے۔ اُس وقت انڈیا میں امیتابھ بچن کا بڑا عروج تھا۔ وہ اپنی مرضی کے پیسے لیتا تھا۔ ہالی وڈ میں آرنلڈ کا بڑا نام تھا۔ میں نے کہا کہ ہمارا کوئی رائٹ نہیں ہے کہ ہم کسی کا ریٹ بڑھائیں۔ اس وقت ’’مولا جٹ‘‘، ’’شیر خان‘‘ جیسی فلمیں بن چکی تھیں۔ یہ بات 1985-86ء کی تھی۔ میں نے کہا کہ ملک صاحب سلطان راہی میری ضرورت تھے، میں نے اس کو لے لیا ہے۔ اُس نے کہا کہ تم نے بڑی زیادتی کی ہے۔ یہ بات کسی طرح سے راہی صاحب تک پہنچ گئی۔ راہی صاحب نے کہا کہ یونس ملک کے ساتھ کیا بات ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ راہی صاحب چھوڑیں جو بھی تھی، میری اس کی دوستی ہے۔ مجھے کہنے لگے کہ میں نے سنا ہے تم بڑا بولے ہو، کہتے ہیں میری فلمیں آپ کے ساتھ ساڑھے تین لاکھ روپے میں ہیں۔ میں نے اڑھائی، اڑھائی لاکھ روپے کی کر دی ہیں۔ حالانکہ وہ فلمیں ساڑھے تین، تین لاکھ روپے میں طے تھیں۔ یونس ملک نے اپنی فلم ’ کی شوٹنگ کا آغاز کر دیا۔ اس کی ویلیو نہیں بنی۔ پھر وہ راہی صاحب کے پاس گیا کہ مجھے آپ کی ضرورت ہے۔ راہی صاحب نے یونس ملک کی فلم ’’آخری جنگ‘‘ میں بغیر معاوضے کے کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تیرا ظرف تھا، یہ میرا ظرف ہے۔ میں پیسے نہیں لوں گا۔ وہ فلم بھی اچھی گئی۔(ش س م)

Sharing is caring!

Comments are closed.