۔۔۔۔ حامد میر کا تہلکہ خیز انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) ستم ظریفی دیکھئے کہ 12مئی کو عمران خان جیو نیوز پر میرے سامنے بیٹھ کر جس الطاف حسین کو “کلر” قرار دے رہے تھے اُس الطاف حسین کو ایک صاحب نے نیلسن منڈیلا قرار دیا۔اُن صاحب کا نام فروغ نسیم ہے، یہ صاحب عمران خان کے وزیر قانون بن گئے اور انہی صاحب نے

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف نااہلی کا ریفرنس بنایا۔ نامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اس ریفرنس کے دائر ہونے سے کافی دن پہلے میں نے وزیراعظم عمران خان کو خبردار کیا کہ قاضی فائز عیسیٰ سے پیپلز پارٹی بھی ناراض تھی اور مسلم لیگ(ن) بھی، آپ کی حکومت نے ریفرنس فائل کیا تو وکلاء برادری میں بےچینی پھیلے گی۔اس کام سے باز رہیں۔ 15مارچ 2019کے کالم میں اس ناچیز نے عرض کیا تھا کہ جو لوگ فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے میں کچھ اداروں پر تنقید کو انا کا مسئلہ بنائے بیٹھے ہیں وہ یاد رکھیں کہ ان کی انا پرستی کا فائدہ دشمن اٹھائے گا۔ 18اپریل 2019کے کالم کا عنوان تھا ’’اندھیری رات‘‘، عرض کیا کہ تحریک انصاف کو ادارہ انصاف کے ساتھ لڑائی زیب نہیں دیتی، جو آپ کو اس لڑائی میں دھکیل رہا ہے وہ آپ کا دوست ہے نہ اپنا دوست۔ چار دن کی چاندنی کے بعد اندھیری رات کی طرف مت بڑھیے۔عمران خان کو اندھیری رات سے خبردار کرنا ان کے ساتھ دشمنی تھی یا دوستی؟ پھر ایک ملاقات میں اس خاکسار نے انہیں بتایا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس ایک فرد کے احتساب کی کوشش نہیں بلکہ ایک ادارے کی دوسرے ادارے کے ساتھ لڑائی تصور ہوگا۔ عمران خان نے واضح کیا کہ ان کے پاس ججوں سے لڑنے کی کوئی وجہ نہیں۔ان کی ترجیح معیشت ہے اس ملاقات کے چند دن بعد ریفرنس دائر ہو گیا تو پھر میں نے 10جون 2019کو ’’رسوائیوں سے ڈرتا ہوں‘‘ کے عنوان سے کالم لکھا کہ آپ تو مجھے کہتے تھے کہ قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کچھ نہیں ہونے والا پھر یہ ریفرنس کہاں سے آ گیا؟ 13جون 2019کے کالم میں انہیں پھر یاد دلایا کہ قاضی فائز عیسیٰ کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے اپنے فیصلے میں وہ کچھ لکھ دیا جو آپ نے 12مئی 2007کو میرے لائیو شو میں کہا تھا۔ قاضی فائز عیسیٰ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حکومت نے خیرمقدم کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنہوں نے ریفرنس بنوایا ان کے طبلچی ابھی تک قاضی فائز عیسیٰ پر خوب غصہ جھاڑ رہے ہیں اور ان کی حمایت کرنے والوں کو جعلی حریت پسند قرار دے رہے ہیں۔مان لیا کہ ہم جعلی حریت پسند ہیں لیکن فیصلہ تو تاریخ نے کرنا ہے کہ ہم الطاف حسین کو نیلسن منڈیلا قرار دینے والے فروغ نسیم کو روزِ اول سے غلط قرار دے رہے ہیں اور آپ ایک جعلی نیلسن منڈیلا کے اصلی پرستار کی دانش پر بھروسہ کرکے اپنا روزِ آخر بھی بھول گئے۔آج پاکستان کی وکلاء برادری عمران خان کے بارے میں وہی نعرے لگا رہی ہے جو نعرے تحریک انصاف 2007میں پرویز مشرف کے بارے میں لگا رہی تھی۔ مشرف کی پالیسی اور مشرف کے ساتھیوں کو گلے لگا کر خان صاحب کو کیا ملا؟ اسی لئے تو بہت پہلے لکھ دیا تھا ’’تیری رسوائیوں سے ڈرتا ہوں‘‘۔(ش س م)

Sharing is caring!

Articles You May Like

Comments are closed.