2 روز قبل پارلیمنٹ میں آصف زرداری کے اس معنی خیز جملے کا مطلب کیا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار ارشاد احمد عارف اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔واقفان حال یہ کہتے نہیں تھکتے کہ عمران خان اپنے آپ کو ریاست اور اسٹیبلشمنٹ کے لئے ناگزیرلگے ہیں‘ یہی زعم باطل حکمرانوں سے پہاڑ جیسی غلطیاں کراتا اور تاریخ کے کوڑے دان میں جگہ بناتا ہے۔

آصف علی زرداری نے کل پتے کی بات کہی کہ’’ عمران خان کے لگائے ہوئے پودے کا پھل کوئی اور کھائے گا‘‘الیکشن کمشن اور اپوزیشن کو مشینی ووٹنگ پر جو اعتراضات ہیں انہیں یکسر مسترد کرنا عقلمندی نہیں‘فرض کیا یہ مشین دھاندلی کا ذریعہ بن سکتی ہے تو پھر بلاشبہ اگلے الیکشن میں تحریک انصاف کشتہ ستم ہو گی اور آج مشینی ووٹنگ کے حق میں دیے گئے سارے دلائل موجودہ حکمران جماعت اور اس کی قیادت کا مُنہ چڑائیں گے‘اس مشین کو نیوٹرل ایمپائر کے درجے پر فائز کرنے والے عمران خان اور اس کے ساتھی کس منہ سے دھاندلی کا شور مچائیں گے جبکہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کو اگر حصہ بقدر جُثہ نہ ملا تو دھاندلی اور مداخلت کا بیانیہ مزید تقویت حاصل کرے گا۔ مشترکہ اجلاس میں عددی برتری حکومت کی بہتر سیاسی حکمت عملی اور ریاضت کا نتیجہ ہے یا غیبی تائید و حمائت کا ثمر؟زیادہ دیر کوئی بات پردہ اخفا میں نہیں رہے گی ‘اتحادی خود آئے یا لائے گئے ؟ناراض ارکان بالخصوص جہانگیر ترین گروپ کے شکوے شکائتیں کیسے دور ہوئے؟کل نہیں تو پرسوں سب کچھ افشا ہو گا ‘اس کامیابی کے بعد حکومت کے چیلنجز البتہ بڑھ گئے ہیں اور اگلے عام انتخابات تک عمران خاں کو اپوزیشن کی خامیوں‘کمزوریوں کے بجائے اپنی خوبیوں اور خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر جینے کی عادت ڈالنی پڑے گی‘وہ دن ہوا ہوئے کہ پسینہ گلاب تھا‘ناگزیر لوگوں سے دنیا بھر کے قبرستان بھرے پڑے ہیں اور اقتدار کے ایوانوں میں بے وفائی کی فصل سب سے زیادہ کاشت ہوتی‘پروان چڑھتی ہے‘مسلم لیگ‘ پیپلز پارٹی جیسی مضبوط‘منظم جماعتیں مزہ چکھ چکیں‘تحریک انصاف تو ویسے بھی کہیں کی اینٹ‘ کہیں کا روڑا جوڑ کر بنی‘اسی باعث یہ غالباً واحد حکمران جماعت ہے جس کے وزیر مشیر بھانت بھانت کی بولیاں بولنے میں تاک ہیں اور ہمیشہ عمران خان کے لئے مسائل پیدا کرتے ہیں تازہ ترین شاہکار تحریک لبیک پر پابندی کا خاتمہ‘حافظ سعد حسین رضوی کی رہائی اور سینکڑوں کارکنوں کا شیڈول 4سے اخراج ہے۔ وفاقی وزیروںشیخ رشید احمد اور فواد حسین چودھری کے دبنگ بیانات کا موازنہ حالیہ واقعات سے کیا جائے تو آدمی سر پیٹ کر رہ جاتا ہے کہ یہ کون سا انداز حکمرانی ہے؟لیکن یہی خان صاحب کی انفرادیت ہے اور ان کے قریبی ساتھیوں کی زندگی بھر کی سیاسی کمائی‘تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ اور اتحادی مطمئن ہیں تو اپوزیشن کی دھما چوکڑی پر کسی کو سنجیدہ ہونے کی کیا ضرورت ہے ع تم بھی چلے چلو جہاں تک چلی چلے

Comments are closed.