2 نام آپ کو حیران کر ڈالیں گے

اسلام آباد ( ویب ڈیسک)الیکشن کمیشن نے ارکان سینیٹ کے 2019-2020کےاثاثوں کی تفصیلات جاری کر دیں۔جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سینیٹ کے سب سے غریب جبکہ سینیٹر تاج آفریدی امیر ترین سینیٹر ہیں۔تاج آفریدی 1ارب ،22کروڑ 27لاکھ کے اثاثوں کے مالک جبکہ سراج الحق کی ملکیت صرف 12کنال زمین ،9لاکھ 63ہزار روپے ہے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی 10کروڑ ،شہزاد وسیم 20کروڑ ،فروغ نسیم 39کروڑ،اعظم سواتی 81کروڑ،شبلی فراز 4کروڑ سے زائد اثاثوں کے مالک ہیںتفصیلات کے مطابق چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی ملک میں 5 کروڑ 53 لاکھ روپے کی غیر منقولہ یراپرٹی ہے ، چاغی ، خاران ، کوئٹہ ، دالبدین میں وراثت میں حاصل کی گئی زرعی اراضی اوردکانیں ہیں ، اسلام آباد، فتح روڈ ، راولپنڈی میں موضع بنج یال اورگوادر میں بھی اراضی ہے۔چیئرمین کے پاس 3 کروڑ، 30 لاکھ روپے کے کاروباری اثاثے ہیں، ملیشیاء میں ایک غیر فعال کاروباری سرمایہ ہے۔41 لاکھ 80 ہزار روپے کے پرائز بانڈ ہیں،انہوں نے رشتہ داروں کو 15 لاکھ روپے قرض دے رکھا ہے،انکے پاس 69 لاکھ 42 ہزار روپے مالیت کی چار گاڑیاں ہیں ، بینک اکاونٹ اور ہاتھ میں 47 لاکھ روپے کیش ہے۔پاکستان سے باہر کوئی غیر منقولہ پراپرٹی نہیں ہے ،اہلیہ کے نام پر بھارہ کہو میں 5 کنال کا فارم ہاؤس ہے۔اہلیہ کے پاس 1500 گرام سونا ہے،مسلم لیگ ن کی سینیٹر راحیلہ مگسی کی دبئی میں 1 کروڑ 23 لاکھ روپے مالیت کا فلیٹ ہے، لندن میں فلیٹ فروخت سے 4 لاکھ 49 ہزار پاؤنڈ پاکستان آئے،سینیٹر مشاہد اللہ خان کی اسلام آباد میں 17 ملین روپے کی پراپرٹی ہے، 17 لاکھ ہاتھ میں اور بینک میں 14 لاکھ روپے کیش ہے۔سینیٹر پرویز رشید کے پاس 20 لاکھ روپے کیش اور بینک میں 14 لاکھ روپے ہے،قائد ایوان ڈاکٹر وسیم شہزاد کے اسلام آباد میں ایک فارم ہاؤس ، ایک گھر اور دو شاپنگ سینٹرز ہیں، شاپنگ سینٹرز اور فارم ہاؤس کی مالیت 8 کروڑ 77 لاکھ روپے ہے،اہلیہ کے نام راولپنڈی میں گھر ہے۔

شہزاد وسیم نے ون شاہراہ دستور پر اپارٹمنٹ کیلئے 2 کروڑ 86 لاکھ روپے جمع کرا رکھے ہیں ،انکے پاس 1 کروڑ 87 لاکھ روپے مالیت کی 8 گاڑیاں ، اہلیہ کے پاس 43 لاکھ روپے مالیت کی 3 گاڑیاں ہیں ۔سینیٹر ولید اقبال کے اثاثوں کی مالیت 14 کروڑ 58 لاکھ روپے ہے، انکے پاس 2 کروڑ 55 لاکھ روپے مالیت کی چار گاڑیاں ہیں،غیر منقولہ جائیداد کی مالیت 45 لاکھ روپے ہے۔ڈپٹی چئیرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا 6کروڑ 77 لاکھ روپے کے اثاثوں کے مالک ہیں وفاقی وزیر اعظم سواتی 81 کروڑ 12 لاکھ روپے مالیت کے اثاثے رکھتے ہیں۔وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم 39 کروڑ 96 لاکھ روپے مالیت کے اثاثوں کے مالک ،وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کے4کروڑ 67 روپے مالیت کے اثاثے رکھتے ہیں۔سینیٹر فیصل جاوید 1 کروڑ روپے اثاثوں کے مالک، سینیٹر تاج محمد آفریدی 1 ارب 22 کروڑ 27 لاکھ روپے مالیت کے اثاثوں کے مالک ہیں ، بیرون ممالک 16 کروڑ 71 لاکھ روپے کے اثاثے ہیں سینیٹر عبدالقیوم 8 کروڑ 64 لاکھ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں، ملکیت میں زمین بینک اکاؤنٹس شامل ہیں۔سینیٹر راجہ ظفر الحق نے الیکشن کمیشن میں اپنی جائیداد ظاہر کی، لیکن مالیت ظاہر نہیں کی ، ظفر الحق نے بینک اکاؤنٹ میں صرف 50 ہزار روپے ظاہر کیے۔سینیٹر عبدالکریم 20 کروڑ سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں ،انکے پاس 3 کروڑ سے زائد رہائشی جائیداد ہے جبکہ 13 کروڑ روپے سے زائد کا کاروبار ظاہر کیا ،رحمان ملک 1.3 ملین پاؤنڈ کے بیرون ملک اثاثوں کے مالک ہیں ،انکے پاس 2.7 ملین روپے کا 50 تولے سونا ہے جو ان کی اہلیہ کی ملکیت ہے۔

سینیٹر مظفر حسین شاہ 3 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں سینیٹر مصطفیٰ نواز کھو کھر 12 کروڑ سے زائد غیر منقولہ جائیداد کے مالک ہیں، 1 کروڑ 50 لاکھ روپے سٹاک شیئر میں جبکہ 3 کروڑ 84 لاکھ روپے سے زائد کی گاڑیوں کے مالک ہیں،2 کروڑ 34 لاکھ روپے سے زائد کی رقم بینک اکاؤنٹ میں ہے۔سینیٹر رضا ربانی کے پاس پاکستان میں 1 کروڑ 53 لاکھ کا کاروبار ہے، 62 لاکھ روپے کی جائیداد تحفے میں ملی ،رضا ربانی نے 15 لاکھ 55 ہزار سے زائد کا انکم ٹیکس ظاہر کیا ہے۔سینیٹر سراج الحق سینیٹ میں غریب ترین رکن سینیٹر سراج الحق کی 12 کنال کی وراثتی زمین ظاہر کی گئی، سینیٹر سراج الحق نے 3 لاکھ 61 ہزار روپے سے زائد کا کاروبار ظاہر کیا ہے، بنک اکاؤنٹ میں 6 لاکھ روپے ہیں،سینیٹر صلاح الدین ترمذی 19 کروڑ 35 لاکھ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں سینیٹر عبدالغفور حیدری تقریباً 63 لاکھ روپے کے اثاثوں کے مالک، ایک بینک اکاؤنٹ میں ایک ہزار 916 روپے جبکہ دوسرے بینک اکاؤنٹ میں 2 ہزار 94 روپے ہیں ۔سینیٹر طلحہ محمود نے 3 کروڑ 30 لاکھ روپے سے زائد کے اثاثے ظاہر کیے، انکے پاس 4 کروڑ 48 لاکھ سے زائد کی گاڑیاں ہیں، طلحہ محمود کےبینک اکاؤنٹ میں 9 کروڑ سےزائد رقم موجود ہے۔اسکے علاوہ ان کے پاس 16 کروڑ سے زائد کے پلاٹ اور گھر ہیں ،ساتھ ہی طلحہ محمود نےالیکشن کمیشن میں 2 کروڑ 70 لاکھ سے زائد کی سرمایہ کاری ظاہر کی ہے ۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *