24 سال بلوچستان میں ملازمت کرنے والے اوریا مقبول جان نے شاندار بات کہہ دی

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار اوریا مقبول جان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔میں نے، مارچ 1980ء سے لے کر اگست 2004ء تک، چوبیس سال کا عرصہ ایک ایسے بلوچستان میں گزارا ہے،جو اپنے زمانے میں پاکستان کا سب سے پر امن اور پر سکون خطہ تھا۔ یہ بلوچستان کے شرپسند گروہوں کی ذوالفقار علی بھٹو کے

آرمی ایکشن کے بعد ضیاء الحق کی عام معافی کے اعلان کے بعد کا دَور تھا۔اس امن اور سکون کا شاہد صرف اکیلا میں ہی نہیں، بلکہ وہ لاکھوں لوگ ہیں جو وہاں رہتے، کاروبار کرتے، دُور دراز سُنسان علاقوں میں موجود سیاحتی مقامات دیکھنے جاتے اور حسین یادیں لیکر لوٹتے۔ میں نے 18 مارچ 1980ء کو بلوچستان یونیورسٹی میں ایک اُستاد کی حیثیت سے نوکری کا آغاز کیا۔ کسی بھی شدت پسند تحریک میں، تعلیمی ادارے سب سے زیادہ متحرک ہوا کرتے ہیں۔ لیکن وہ تقریباً پونے 5 سال جو میں نے وہاں گزارے، میری زندگی کا خوشگوار ترین دَور ہے۔ ایسے تمام نوجوان جو پہاڑوں پر چلے گئے تھے، افغانستان کیمپوں میں جا کر ٹریننگ لیتے رہے تھے، یا حیدر آبادر بغاوت کیس (جو ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے سیاسی مخالفین کیلئے بنایا تھا) اس میں گرفتار ہوئے تھے، یہ سب کے سب واپس آ چکے تھے اور اب تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ کوئٹہ کی وہ فضاء لوٹ آئی تھی، جس کی یاد میں ہر شخص آنسو بہایا کرتا تھا۔ جتنی ادبی محفلیں، مشاعرے، موسیقی کے کانسرٹ، اس عام معافی کے بعد کے دَور میں ہوئے، بلوچستان کی تاریخ میں نہیں ہوئے ہوں گے۔ پورے پاکستان میں عطاء شاد کی شاعری اور فیض احمد بلوچ کی موسیقی شناسا آوازیں بن چکیں تھیں۔ اس ماحول کا سحر اتنا تھا کہ جب 1984ء میں سول سروس امتحان میں کامیابی کے بعد اکیڈیمی کی ٹریننگ کے دوران میری کسی صوبے میں تعیناتی کا مرحلہ آیا تو چونکہ میرا ڈومیسائل پنجاب کا تھا،

اور اپنے صوبے میں تعیناتی کی پالیسی نہیں تھی، اس لئے مجھے سندھ میں تعینات کر دیا گیا۔ مجھے پنجاب اور سندھ کی بیوروکریسی کا تحکمانہ، شاہانہ اور شدت کی حد تک آمرانہ مزاج اچھا نہیں لگتا تھا، اسی لئے جب ضیاء الحق ہماری اکیڈیمی کی پاسنگ آئوٹ تقریب میں آیا تو میں نے اسے بلوچستان جانے کی درخواست کر دی، میری اس درخواست پر اسے شدید حیرانی ہوئی، کیونکہ بلوچستان جیسے قبائلی معاشرے میں ’’شاہانہ افسری‘‘ والے لوگ جانا پسند نہیں کرتے تھے۔ دوبارہ سوال کیا، میں نے ’’ہاں‘‘ میں جواب دیا تو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ جناب آفتاب احمد خان سے کہا، ’’اس بندۂ صحرائی کا آج ہی نوٹیفکیشن ہو جانا چاہئے‘‘۔ یوں ٹریننگ کے بعد نوکری کے اگلے اٹھارہ سال میں نے اس عام معافی کے فوائد سے بہرہ مند ہونے والے بلوچستان میں گزارے۔ ایسا محبتوں اور چاہتوں میں ڈوبا ہوا بلوچستان جس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ بحیثیت ایک انتظامی آفیسر میں نے بلوچستان کے چپے چپے میں نوکری کی ہے، لیکن دو واقعات میری زندگی کا سرمایہ ہیں اور میں اگر کسی دوسرے صوبے میں تعینات ہوتا تو ایسی محبت ہرگز نہ ملتی۔ میں دو سال سبی میں ڈپٹی کمشنر تعینات رہنے کے بعد جب 1995ء میں ٹرانسفر ہوا، تو الوداعی تقریبات تو معمول کی بات ہے، لیکن شہر کے لوگ میرے گھر تشریف لائے، ایک جمِ غفیر تھا، مجھے اپنے جلو میں لیا اور شہر کی سڑکوں میں سے مجھے ایک جلوس کی صورت گزارتے ہوئے ریلوے اسٹیشن تک چھوڑنے آئے۔ راستے بھر چھتوں سے

پھول نچھاور ہوتے رہے۔ دوسرا واقعہ چاغی کا ہے جہاں میں ڈپٹی کمشنر اور پولیٹکل ایجنٹ تعینات تھا۔ وزیر اعلیٰ اختر مینگل نے تقریباً ایک سال بعد 1997ء میںمیرا تبادلہ کر دیا۔یہ ایک معمول کی کارروائی تھی، لیکن اس حکمنامے پر چاغی کے ہیڈ کوارٹر نوشکی میں عوام کی طرف سے مکمل ہڑتال کی گئی اور اگلے دن آر سی ڈی ہائی وے بلاک کر دی گئی۔ شام کو میرے تبادلے کا حکم نامہ منسوخ ہو چکا تھا۔میں نہ تو ان لوگوں کے قبیلے سے تھا، اور نہ ہی ان کی زبان بولتا تھا، لیکن محبت کے زمزمے ایسے تھے کہ آج بھی زندگی کا سرمایہ ہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں تھا اگر ضیاء الحق کی عام معافی کے اعلان نے بلوچستان کو ایک پر امن فضاء تحفے میں نہ دی ہوتی تو ایسی محبتیں اُمڈتیں۔ یہی دَور تھا جب بلوچستان میں دُور دُور تک بجلی پہنچائی گئی اور کراچی سے کوئٹہ شاہراہ مکمل ہوئی اور پورے راستے پر بجلی کی وجہ سے ٹیوب ویل لگے اور پورا خطہ سرسبز و شاداب ہو گیا۔پچاس کی دہائی میں نکلنے والی سوئی گیس جس سے پورا ملک فائدہ مند ہو رہا تھا،اسی دور میں 1984ء میں کوئٹہ شہر اور بلوچستان کو ملی۔عام معافی سے پہلے،ایسے تمام ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں فائل یہ کہہ کر بند کر دی جاتی تھی کہ علاقہ میں بدامنی ہے، شرپسند کام نہیں کرنے دیں گے، اس لئے کام کا آغاز نہ کیا جائے۔ بلوچستان میں 1973ء کی بغاوت ایک عام بغاوت نہ تھی۔ اس کی نظریاتی بنیادیں، 1920ء میں

اس کانفرنس میں رکھ دی گئیں تھیں جو سوویت یونین نے باکو میں بلائی تھی اور جس میں ایک بلوچ وفد بھی شریک ہوا تھا۔ بلوچستان کے بلوچ، پشتون اور بروہی اس قوم پرست کیمونسٹ بغاوت میں برابر کے شریک تھے۔ صوبہ سرحد کے قوم پرست اور روس نواز کیمونسٹ رہنما بھی اس کا ساتھ دے رہے تھے۔ یہاں تک کہ سندھ سے محمد علی تالپور اور پنجاب سے نجم سیٹھی اور ان کے کئی ساتھی بلوچستان کی اس ہتھیاروں سے لیس جدوجہد میں طور پر شریک تھے۔اس بغاوت میں افواجِ پاکستان اور پیرا ملٹری فورسز کے تین ہزار افراد نے دائمی اجل کو لبیک کہا تھا،پانچ ہزار تین سو بلوچ،پشتون اور بروہی متحرک لڑنے والے جان بحق ہوئے تھے اور سولہ ہزار عام شہری جان سے گئے۔ تقریباً 25 ہزار انسانوں کی جانوں کی قربانی کے بعد جب ہوش آیا، عام معافی دی گئی تو لوگ سب اپنا زخم بھول کر ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر ہو کر رہتے رہے۔ اور پھر 26 اگست 2006ء کو نواب اکبر بگٹی ہماری ناتجربہ کار، اَنا پرست اور ناسمجھ اسٹیبلشٹمنٹ کے بلوچستان کی مخصوص سیاسی قیادت کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے اس دُنیا سے رخصت کر دیئے گئے، اور سارا امن غارت ہو گیا۔ نواب بگٹی 15 فروری 1973ء کو اس وقت بلوچستان کے گورنر لگے تھے جب عطاء اللہ مینگل کی حکومت کو بھٹو نے توڑا تھا اور وہاں جدوجہد شروع ہوئی تھی۔ نواب بگٹی نے بحیثیت گورنر ہتھیار ڈالنے پر عام معافی کی پالیسی کا اعلان کیا تھا اور

مختلف علاقوں میں امن ہونے لگا تھا۔ نواب بگٹی کے اس فارمولے پر جب 5 جولائی 1977ء پر عمل ہوا تو اس کے بعد 26 اگست 2006ء تک کے انیس سال بلوچستان کے امن و سکون کی گواہی دیں گے۔ حالانکہ اس تمام عرصے میں بلوچستان کی دو سرحدوں پر انقلابات ہی انقلابات برپا ہو رہے تھے۔ ایران میں آیت اللہ خمینی کا انقلاب آیا، اور ساتھ ہی افغانستان میں پہلے روس کی افواج داخل ہوئی، لڑائی ان کی فتح، پھر آپس کی لڑائی، تالبان کا عروج، گیارہ ستمبر، امریکہ کی مداخلت یہ سب کچھ ہوا، لیکن بلوچستان کے عوام پر عامی معافی کے اعلان کا اس قدر گہرا اثر تھا کہ ہزاروں کلو میٹر ایرانی اور افغانی سرحد کے پار سے ہونے والے حادثات بلوچستان کے امن کو تباہ نہ کر سکے۔ اس عام معافی میں کامیابی کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ ریاست نے اپنے تین ہزار قربان ہو جانیوالوں کے دکھ کا ڈھنڈرا نہیں پیٹا تھا اور بلوچ قوم پرست بھی اس بات پر مکمل راضی تھے کہ ہم اپنے 5,300 نوجوانوں کا خون بھول جاتے ہیں۔ اس کیساتھ ساتھ اس وقت آگ لگانے، بھڑکانے اور سازشوں کا تار پورد پھیلانے والا میڈیا اور ایسے اینکرز موجود نہیں تھے جو شر انگیزی کیلئے بار بار یہ سوال اُٹھاتے پھرتے کہ پہلے ان سولہ ہزار عام شہریوں کے والدین سے تو پوچھو کہ جن کے پیارے مارے گئے۔ سب کچھ پرسکون طریقے سے ہو گیا اور جس کے نتیجے میں بلوچستان نے اپنے سر پر امن کی چادر تان لی۔

Comments are closed.