3 سال قبل مجھے ایسا کہنے والے کپتان کے فینز آج کل کیا سوچ رہے ہیں ؟

لاہور (ویب ڈیسک) نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔میں پہلے بھی عرض کرچکا ہوں میرا سارا سسرال کینیڈا میں ہے، میرے بے شمار سٹوڈنٹس بھی کینیڈا میں ہیں۔ بے شمار دوست احباب کچھ دوسرے ممالک میں بھی بڑی اچھی زندگی بسرکررہے ہیں، حلال کمائی کی فراوانی ہے،

مستحقین کی مددکرتے ہوئے، اُن کے کام آتے ہوئے اُنہیں دِلی سکون ملتا ہے۔ اب پاکستان میں جو حالات چل رہے ہیں، وہ مجھے بھی ایک ”مستحق“ ہی سمجھتے ہیں، وہ میری مدد کرنا چاہتے ہیں، وہ چاہتے ہیں میں پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیرباد کہہ دُوں، میرے سسر عبدالعزیز ملک عمران خان کے دیوانے تھے، اب بھی ہیں، پر آہستہ آہستہ اُن کی دیوانگی ماند پڑتی جارہی ہے، اُس کے مقابلے میں اُن کی حیرانگی بڑھتی جارہی ہے، میں جب ”تبدیلی“ کو سپورٹ کررہا تھا، اِس کے لیے کالم، ترانے اور گانے لکھ رہا تھا، وہ اکثر مجھ سے کہتے تھے تم عبادت کررہے ہو،…. میراایک قریبی عزیز جرمن میں مقیم ہے وہ تبدیلی کے نعرے کے سحر میں اِس حدتک گرفتار ہوگیا تھا ”پاکستان پر سالہا سال سے قابض چوروں سے نجات کے لیے عمران خان کے ساتھ مِل کر جدوجہد کرنے کے عمل کونمازوں اور حج سے زیادہ افضل سمجھتا تھا، اِس کے باوجود کہ اُن دِنوں میں بھی تبدیلی کے نعرے کے سحر میں بُری طرح گرفتار تھا، میں اُسے سمجھاتا تھا تمہارا یہ مو¿قف یا سوچ درست نہیں ہے۔ بلکہ میں اِس پر باقاعدہ احتجاج بھی کرتا تھا۔ میری طرح اب وہ بھی ڈپریشن کا شکار ہے ”اِس طرح توہوتا ہے اِس طرح کے کاموں میں “…. آپ یہ سُن کر حیران ہوں گے 2018ءکے انتخابات میں بیرون ملک مقیم میری فیملی کے لگ بھگ چالیس کے قریب عزیزان صرف خان صاحب کو ووٹ ڈالنے پاکستان آئے۔ بے شمار دوستوں، عزیزوں، رشتہ داروں نے مالی طورپر بھی اُنہیں سپورٹ کیا۔

اِک روز خان صاحب میرے گھر لنچ پر تشریف فرماتھے، کینیڈا سے تشریف لائے ہوئے میرے ایک اسی سالہ بزرگ نے دیرتک اُنہیں گلے سے لگائے رکھا، وہ پچیس برس بعد پاکستان آئے تھے، خان صاحب سے گلے ملتے ہوئے اُنہیں یوں محسوس ہورہا تھا وہ پاکستان سے گلے مِل رہے ہیں، خان صاحب چونکہ مردانہ جپھیوں کو زیادہ پسند نہیں کرتے لہٰذا میرے اُس بزرگ نے جب دیرتک اُنہیں گلے سے لگائے رکھا، مجھے خدشہ تھا جیسی خان صاحب کی طبیعت ہے اُس بزرگ کو دھکے سے وہ پیچھے نہ ہٹا دیں، سو میں نے خود آگے بڑھ کر اپنے بزرگ کو اُن سے الگ کیا، بزرگ کی آنکھوں میں آنسو تھے، یہ آنسو اصل میں دعائیں تھیں جو وہ خان صاحب کو دے رہے تھے، وہ بڑی ریت روایات والے بزرگ ہیں، پچیس برس پہلے پچیس برس بعد کے متوقع حالات یا خرابیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے وہ مستقل طورپر پاکستان کو خیرباد کہہ کر کینیڈا چلے گئے تھے۔ وہ یہ سمجھتے عمران خان کے روپ میں اللہ نے پاکستان کو ایک اور قائداعظمؒ دے دیا ہے، وہ یہ سمجھتے ایک قائداعظمؒ نے پاکستان بنایا، دوسرا قائداعظم (عمران خان) پاکستان کو ایسا پاکستان بنادے گا قائداعظمؒ کی روح خوش ہوجائے گی، …. اب حالت یہ ہے اندرون وبیرون ملک انتہائی محب وطن پاکستانی اس وقت کئی صدمات سے دوچار ہیں۔ ایک صدمہ یہ ہے جس شخص کو اُس کی پوجا کرنے کی حدتک وہ چاہتے رہے تاحال وہ اُن کی اُمیدوں پر رتی بھر بھی پورا نہیں اُترا، گزشتہ دواڑھائی برسوں میں جو اُس کی پرفارمنس ہے اُس کے نتیجے میں ہرشعبے میں خرابی بڑھتی جارہی ہے، اور یہی وہ امر ہے جس کی بنیاد پر وہ مزید کوئی توقع بھی اُس سے وابستہ نہیں کررہے،…. دوسرا بڑا صدمہ اُن کے لیے یہ ہے گزشتہ برس ہا برسوں سے اِس ملک کی ہرلحاظ سے جڑوں کو کھوکھلا کرنے والے لٹیرے ایک بار پھر اقتدار میں آتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، اقتدار ایک بار پھر اُن کے گھر کی لونڈی بن گیا، یہ سانحہ ایک بار پھر ہوگیا، اِس بار اِس کا اصل کریڈٹ خفیہ قوتوں کو نہیں خیر سے ہمارے خان صاحب کو جائے گا، …. خان صاحب یہ کریڈٹ اگر نہیں لینا چاہتے اِس کا واحد حل اُن کے پاس یہ ہے اقتدار کا جو عرصہ اُن کے پاس بچ گیا ہے، جو تیزی سے گزرتا جارہا ہے، اِس عرصے میں عوام کو بنیادی ریلیف دینے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کریں، اپنی ٹیم میں اہل لوگوں کو شامل کریں، پر اپنے جیسے”اہل لوگوں“ کو شامل نہ کریں، اپنے ہرکسی مخالف کو چور کہنے کی عادت یا علت سے چھٹکارا حاصل کرکے اپنی توجہ صرف اور صرف پاکستان کے اصل مسائل پر دیں، پنجاب میں انتظامی تبدیلیاں اُنہوں نے بہت کرکے دیکھ لی ہیں، سیاسی تبدیلی کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائیں، انا کا مسئلہ صرف اور صرف عوام کے مسائل کو بنائیں

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *