3 ماہ کی قید کی سزا اور پھر لاہور ہائیکورٹ سے اس سزا کی معطلی کے پیچھے چھپی کہانی

لاہور (ویب ڈیسک) صارف عدالت کے جج کی ذمہ داری صارفین کے حقوق کی نگہبانی ہے لیکن ہر ضلع میں ایک کنزیومر پروٹیکشن کونسل بھی ہوتی ہے جس کا چیئرمین ڈی سی ہوتا ہے پھر کیوں کنزیومر کورٹ کے جج نے کنزیومر پر وٹیکشن کونسل کے چیئرمین کو توہینِ عدالت کی سزا سنائی؟

نامور مضمون نگار حمید اللہ بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آیاسرکاری رہائش خالی کرانے کا کیس سُننے اور ایسی سزا سنانے کا کنزیومرکورٹ کے جج کو اختیار ہے یا نہیں؟ عدالتی اختیارات پر بات کرنے کے بجائے توہینِ عدالت کا باعث بننے والے واقعہ کا پس منظر جاننا زیادہ اہم ہے محکمہ آبپاشی کے کلرک سے زبردستی رہائش خالی کراناظاہر ہے سفارشی ڈی سی کی کوئی سیاسی مجبوری ہو گی کیونکہ جو تعیناتی کراتے ہیں وہ پھر کام بھی خوب لیتے ہیںمگر کام کرنے والا تجربے اور قابلیت کے بجائے صرف سفارش پر ہی تکیہ کرنے لگے تو کام سنورتے نہیں بگڑتے ہیں ایسا ہی کچھ منڈی بہائوالدین میں ہوا جج کی طرف سے جاری ہونے والے طلبی کے نوٹسوں کوابتدامیں تو اہمیت ہی نہ دی گئی جب سلسلہ بڑھنے لگا توعدالت کی توقیر کے بجائے تحقیر کرتے ہوئے محبوب نامی کلرک کو ڈی سی کا نمائندہ بنا کر بھیج دیا یہ سراسرطیش دلانے والی حماقت تھی اسی وجہ سے ڈی سی اور اے سی کو توہینِ عدالت میں تین تین ماہ کی سزا سنا کر جیل بھجوانے کا حکم سنایاگیا کلرک اور اے سی امتیاز بیگ تو قید میں چلے گئے جبکہ ریسٹ ہائوس کو سب پرزن کا درجہ دلواکرڈی سی نے چنددن آرام کر لیا یہ واقعہ سراسر مِس ہینڈلنگ ہے کیونکہ عدالت میں پیش ہونے سے قبل ڈپٹی کمشنر نے ایک اور حماقت یہ کی کہ کنزیومر کورٹ کے جج رائو عبدالجبار سے بذریعہ فون کیس سے الگ ہونے کا حاکمانہ لہجے میںمطالبہ کیااب ڈی سی نے عدالتی فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کر لیاہے

ابتدائی سماعت میں ہائیکورٹ نے توہینِ عدالت کی سزا معطل کر دی ہے لیکن توہینِ عدالت کی ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سزا ختم نہیں کرتیں تو اے سی امتیا زبیگ اور ڈی سی طارق علی بسرا دونوں ملازمتوں سے بھی محروم ہو سکتے ہیں یو سف رضا گیلانی کو توہینِ عدالت کے کیس میں ہی ایک دن کی سنائی گئی جس پروہ وزیرِ اعظم کے منصب سے محروم ہوئے سزا کے برقرار رہنے سے دونوں آفیسروں کے بطور بیوروکریٹ مستقبل کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔طارق علی بسرا کا تعلق سیالکوٹ سے ہے اُن کے والد مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کونسلر منتخب ہوتے رہے ہیں طارق علی بسرا وزیراعلیٰ کے دفتر 8 کلب میں بطور ڈپٹی سیکرٹری ،ڈیرہ غازی خاں میں قبائلی علاقوں کے پولیٹیکل اسسٹنٹ اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پی ایچ اے لاہور کے عہدوں پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں نہ جانے اُن میں ایسی کیا خاص خوبی ہے کہ حکومت نے خصوصی نوازش کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پی ایچ اے کا چارج بھی تھما دیا ظاہر ہے ایسے اہم اور کلیدی عہدوں پر ایک جونیئر آفیسرکی تعیناتی کسی اہلیت و صلاحیت کے بجائے سفارشی کلچر کی بدولت ہی ممکن ہوئی ایک جونیئر بیوروکریٹ کیونکر سنیئر عہدوں پر تعینات ہوتا رہا اِس میں ٹی کے کا عمل دخل بھی ہو سکتا ہے خیر وہ اب چیف منسٹر کے پرنسپل سیکرٹری نہیں بلکہ نیب کی پیشیاں بھگت رہے ہیں مگر ابھی تک تقرریوں و تبادلوں میں اُن کی اہمیت برقرار ہے رائو پرویز اخترجیسے جونیئر شخص کی بطور ڈپٹی کمشنر جہلم تعیناتی بھی طاہر خورشید کی نظرِ عنایت تھی جس نے حماقت کرتے ہوئے چیف آفیسر کنٹونمنٹ بورڈ جہلم کو میٹنگ کے لیے طلب کیا نہ آنے پر سرزنش کرتے ہوئے کارروائی کاتحریری عندیہ دیا جس کے تفصیلی جو اب میں چیف آفیسر نے لکھا کہ میں آپ کے ماتحت نہیں اور آئندہ ایسے حکم نامے جاری کر نے سے قبل کسی سے اپنے اختیارات کا پتہ کر لیا کریں ڈی سی جہلم کی طرح ڈی سی منڈی بہائوالدین کو بھی اختیارات کی خماری ہی لے ڈوبی اگر سفارش کے بجائے اہلیت و صلاحیت اور تجربے کی بنا پر آگے آئے ہوتے تو گرفتاری کی نوبت سے قبل ہی فہم و فراست سے معاملہ حل کر لیتے۔

Comments are closed.