30 سال سے سیاسی امور کو کور کرنے والے سینئر صحافی کا تہلکہ خیز انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) نامور صحافی محمد نواز رضا اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تین عشروں سے زائد عرصہ سے مسلم لیگ (ن) کور کر رہا ہوں۔ مسلم لیگ (ن) کے اندر ایک مضبوط لابی نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان ’’رومانس ‘‘ کے خلاف رہی ہے جب کہ نواز شریف

اپنی پارٹی کے بعض رہنمائوں کی آرا کو نظر انداز کر کے آصف علی زرداری کو اپنے قریب تر کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جب تک چوہدری نثار علی خان مسلم لیگ (ن) کے پالیسی ساز رہے‘ انہوں نے نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان ’’فاصلہ‘‘ قائم رکھنے کی کوشش کی‘ اس ’’جرم‘‘ کی پاداش میں انہیں نواز شریف کی ’’ناراضی‘‘ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اگست 2007ء میں زرداری ہائوس میں مذاکرات کے دوران نواز شریف آصف علی زرداری کے ’’سحر‘‘ میں اس حد تک مبتلا ہو گئے کہ وہ ججوں کی بحالی کے عوض انہیں ’’بلینک چیک‘‘ دینے کے لئے تیار ہو گئے۔ چوہدری نثار علی خان نے نواز شریف کو اتنا بڑا سیاسی فیصلہ کرنے سے روک دیا جس پر آصف علی زرداری اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ آصف علی زرداری نے ججوں کی بحالی بارے معاہدے سے یہ کہہ کر برات حاصل کر لی کہ یہ کوئی صحیفہ تو نہیں ۔ نواز شریف اور آصف علی زرداری میں رومانس ہی تھا کہ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی ناگہانی موت پر تعزیت کے لئے پوری جماعت لے کر لاڑکانہ پہنچ گئے۔ انہوں نے آصف علی زرداری کا انتخابات میں حصہ لینے کا مشورہ قبول کر لیا۔ مسلم لیگ پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کا حصہ بن گئی۔ آصف علی زرداری نے جج بحال کرنے سے انکار کیا تو ڈیڑھ ماہ بعد ہی نواز شریف اور آصف علی زرداری کے درمیان رومانس ختم ہو گیا۔ نواز شریف نے ججوں کی بحالی کے لئے لانگ مارچ کر کے جسٹس افتخار چوہدری کو بحال کر وا کے پیپلز پارٹی پر مستقل عذاب مسلط کر دیا اور پھر کالا کوٹ پہن کر نواز شریف میمو گیٹ

اسکینڈل میں سپریم کورٹ پہنچ گئے۔2013ء میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت برسر اقتدار آئی تو آصف علی زرداری کو باوقار طریقے سے ایوان صدر سے رخصت کیا گیا۔ 2014ء میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ایجی ٹیشن کے ذریعے ختم کرنے کی سازش کو ناکام بنانے میں پیپلزپارٹی مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔ آصف علی زرداری نے ایک تقریب میں ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ کو کیا للکارا‘ اگلے روز نواز شریف نے آصف علی زرداری کی طرف سے دیا جانے والا ظہرانہ ہی منسوخ کر دیا۔ آصف علی زرداری کو اس ’’گستاخی‘‘ پر ڈیڑھ سال تک دبئی میں ’’خود ساختہ‘‘ جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ حالات کے ’’جبر‘‘ نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو کبھی اکھٹا کر دیا اور کبھی ایک دوسرے کے آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ مریم نواز پیپلز پارٹی کو ہمنوا بنانے کے لئے بے نظیر بھٹو کی برسی کے جلسہ اور بختاور کی شادی کی تقریب میں جا پہنچیں لیکن اب یہ سب کچھ مفادات کی سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا۔ 2018ء کے انتخابات میں دھاندلی نے تمام متاثرہ جماعتوں کو پی ٹی آئی کے خلاف صف آرا تو کر دیا لیکن یہ آصف علی زرداری ہی تھے جنہوں نے مسلم لیگ (ن) سمیت ان تمام جماعتوں کو پارلیمنٹ کا راستہ دکھایا جو یہ سمجھتی تھیں کہ ان کا مینڈیٹ چرا لیا گیا ہے۔ آصف علی زرداری نے صدر، وزیر اعظم اور اسپیکر کے انتخاب میں ایک بار پھر اپنا الگ کھیل کھیلا ۔ انہوں نے بلوچستان کی حکومت گرانے میں جس طرح اسٹیبلشمنٹ کی مدد کی‘ وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ پی ڈی ایم کا شیرازہ اپنے قیام کے چھ ماہ بعد ہی منتشر ہوتا نظر ا ٓرہا ہے‘ اس میں کمال ’’کپتان‘‘ کا نہیں بلکہ اتحاد میں شامل بعض جماعتوں کے مفاد کا ہے۔ سینیٹ میں کپتان کے امیدوار کو شکست دینا مقصود تھا تو پوری اپوزیشن متحد ہو گئی لیکن چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں اپوزیشن کے سات ارکان نے دانستہ اپنے سات ووٹ مسترد کرا دئیے۔ پی ڈی ایم نے اپوزیشن لیڈر کی نشست مسلم لیگ (ن) کو دینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن آصف علی زرداری نے حکومتی اتحاد کے ارکان سے مل کر اپنا اپوزیشن لیڈر بنوا کر پوری اپوزیشن کو حیران و ششدر کر دیا۔ ان کے اس طرزِ عمل سے دونوں کے درمیان رومانس ختم ہو گیا۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *