4 دن کام اور3 دن موجیں :

میڈرڈ(ویب ڈیسک) اہم یورپی ملک سپین دنیا کا ایسا واحد ملک بننے جا رہا ہے جہاں رہنے والے ملازمین صرف ہفتہ وار 4 روز تک کام کرینگے اور انھیں 3 چھٹیاں ہونگی۔ اس اہم اقدام کو سرکاری سطح پر لاگو کرنے کیلئے پلان شروع کر دیا گیا ہے۔سپین کی حکومت کی جانب سے اس پروگرام کو پورے ملک میں

متعارف کرانے کیلئے کمپنیوں کو آگاہ کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک پائلٹ پراجیکٹ کے ذریعے اس پروگرام آزمائشی طور پر اپنایا جائے گا، اس کے بعد آہستہ آہستہ اسے پورے ملک میں نافذ کرنے کے احکامات دیئے جائیں گے۔خیال رہے کہ سپین کی سیاسی جماعت ماس پیاز کی جانب سے تاریخی اعلان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ان کی کاوشوں کی بدولت حکومت اس بات پر رضامند ہو چکی ہے کہ ہفتے میں صرف چار روز تک ہی کام ہونا چاہیے، تاہم یہ منصوبہ ابھی آزمائشی طور پر ہی نافذ ہوگا تاکہ اس کے منفی اثرات پر بھی غور کیا جا سکے۔سیاسی جماعت ماس پیاز کے لیڈر انگیو اریجون کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس پر عملدرآمد کا وقت آن پہنچا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملازمین کو ہفتہ میں صرف 32 گھنٹے ہی کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اس اہم معاملے میں حکومت کیساتھ بات چیت کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔خیال رہے کہ ناصرف پورے یورپ بلکہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں بھی اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ ملازمین کی صحت اور صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کیلئے ضروری ہے کہ ان سے ہفتے میں صرف 32 گھنٹے تک ہی کام کروایا جائے۔سپین کے سیاسی رہنما انگیو اریجون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمارے ملک کے شہریوں کا شمار زیادہ گھنٹوں تک کام کرنے والے مزدوروں اور ملازمین میں ہوتا ہے لیکن اتنی محنت کے باوجود ہمارے ملک کی پیداواری صلاحیت کسی بھی یورپی ملک سے کم ہے۔ اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ دیر کام کرنے سے بہتر کام نہیں ہو سکتا ہے۔

Comments are closed.