5 دسمبر کو لاہور میں ہونیوالے بڑے دنگل میں اب تک کس کا پلڑہ بھاری ہے ؟

لاہور(ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) لاہور کے صدر پرویز ملک کی وفات سے خالی ہونیوالی قومی اسمبلی کی این اے 133 کی نشست پر ضمنی الیکشن پانچ دسمبر کو ہو گا،اس ضمن میں حکمر ا ن جماعت تحریک انصاف نے مشیر برائے خوراک جمشید اقبال چیمہ کو وزیر اعظم عمرا ن خان کی

خصو صی ہدایت پر ٹکٹ جاری کردیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) نے مرحوم کی اہلیہ شائستہ پر و یز ملک سے کہا آپ خود ضمنی الیکشن لڑیں اور قومی اسمبلی کی مخصوص نشست کو چھوڑ دیں۔اس حلقہ سے جنرل الیکشن 2018 ء میں پیپلز پارٹی کے موجودہ صدر چودھری محمد اسلم گل نے الیکشن لڑا تھا مگر تاحال پیپلز پارٹی نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ اس نے ابھی بھی یہاں سے چودھری اسلم گل کو الیکشن لڑوانا ہے یا پھر کسی اور کو الیکشن لڑوانا ہے، اس سلسلے میں جب پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف سے سوال کیا گیا توان کا کہنا تھا یہاں سے پیپلز پارٹی اپنا امیدوار ضرور کھڑا کریگی اور انتخابی میدان خالی نہیں چھوڑے گی۔حلقہ کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی حدود میں بیس یونین کونسلیں آتی ہیں اور ان یونین کونسلوں میں چیئرمین اور وائس چیئرمین صرف مسلم لیگ (ن) سے ہی تعلق رکھتے ہیں تاہم کچھ وارڈز سے پی ٹی آئی کے لوگ بھی کامیاب ہوئے ہیں، یہاں پر مسلم لیگ کی مقامی دھڑے بندیاں بھی بتائی جارہی ہیں، اس کے باوجود مسلم لیگ کا پلڑا بھاری بتایا جارہا ہے،دوسری جانب حلقے سے جنرل الیکشن میں پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کے صدر اعجاز چودھری نے خود الیکشن لڑا تھا اب چونکہ وہ سینٹر منتخب ہو چکے ہیں، یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پی ٹی آئی پنجاب کے جنرل سیکرٹری علی امتیاز وڑائچ سمیت دیگر اٹھارہ کے قریب لوگ یہاں سے ٹکٹ لینے کے

خواہشمند تھے، اس حلقہ سے چونکہ وزیر اعظم عمران خان نے جمشید اقبال چیمہ کو خود ٹکٹ جاری کیا اور وہ روزانہ کی بنیادوں پر رپورٹ بھی حاصل کررہے ہیں اسلئے صدر پی ٹی آئی پنجاب اعجاز چودھری نے اپنی اسلام آباد کی مصروفیات ختم کرکے حلقہ میں ڈیرے ڈال لئے ہیں، پی ٹی آئی کا کہنا ہے اس حلقہ میں چالیس ہزار کے قریب کرسچین،اور اسی ہزار کے قریب مسلم ووٹرز ہیں جو جنرل الیکشن کے وقت اسد کھوکھر کو پڑے تھے،اسلئے پی ٹی آئی کا یہ دعویٰ ہے کہ ضمنی الیکشن میں بھی یہ ووٹ ہمارے امیدوار کو پڑیں گے جبکہ اس حلقہ کی کچھ وارڈز وفا قی وزیر شفقت محمود،کچھ وارڈز سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان اور ایک بہت برا صوبائی حلقہ اسد کھوکھر جو اسوقت پی ٹی آئی کے وزیر بلد یا ت ہیں ان کے حلقہ میں آتا ہے اسلئے پی ٹی آئی پر امید ہے ضمنی الیکشن میں اس کی جیت یقینی ہے تاہم اس کا فیصلہ تو ووٹرز نے پانچ دسمبر کو کرنا ہے کہ یہاں سے جیت کا سہرا کس جماعت کے سر سجے گا۔

Comments are closed.